اسپین میں تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن: حکومت نے 25 یورو فی گھنٹہ پر عملہ بھرتی کر لیا، امیگریشن دفاتر کو نظرانداز کرنے کا الزام
Screenshot
اسپین کی حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ سے زائد تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے عمل کا آغاز قریب ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق درخواستیں آئندہ ماہ کے آغاز یعنی تقریباً ایک ہفتے بعد سے جمع ہونا شروع ہو جائیں گی اور یہ عمل 30 جون تک جاری رہے گا۔
تاہم اس پورے عمل کے طریقۂ کار کے بارے میں ابھی تک واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، جس پر امیگریشن (Extranjería) کے سرکاری ملازمین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف انہیں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں بلکہ اس عمل میں ان کا کردار بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پورے ملک میں موجود امیگریشن دفاتر میں سے صرف 9 دفاتر اس عمل میں شامل ہوں گے، جن میں بارسلونا، میڈرڈ، بلباؤ، ویلنشیا، ایلیکانتے، مالاگا، المیریا، مرسیا اور پالما شامل ہیں۔ اس کے برعکس، سوشل سیکیورٹی، ڈاک کے ادارے (Correos) اور سرکاری کمپنی Tragsa کے ملازمین اس عمل کا بڑا حصہ سنبھالیں گے، جنہیں اضافی اوقات کار میں 25 یورو فی گھنٹہ معاوضہ دیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے بارسلونا میں کم از کم تین نئے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، تاہم ابھی تک اس پورے انتظام کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ وزارتِ شمولیت، سوشل سیکیورٹی اور مہاجرت اس عمل کی نگرانی کرے گی، جبکہ حتمی ضابطہ (ریئل ڈکری) ابھی ریاستی کونسل سے منظوری کا منتظر ہے۔
بارسلونا سٹی کونسل میں رہائشی رجسٹری (پدرون) کی تاریخ حاصل کرنے کے لیے مئی کے آخر تک کوئی وقت دستیاب نہیں، جس سے درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
یونین CSIF نے اس بات پر بھی تنقید کی ہے کہ امیگریشن کے ماہر سرکاری ملازمین کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جبکہ ایک سال بعد جب عارضی رہائشی اجازت ناموں کی تجدید کا مرحلہ آئے گا تو یہی دفاتر پہلے ہی دباؤ کا شکار نظام کے تحت اس بوجھ کو سنبھالیں گے۔