بارسلونا میں سڑک کی کھدائی کے دوران ہسپانوی خانہ جنگی کا فضائی حملوں سے بچاؤ کی پناہ گاہ دریافت

Screenshot

Screenshot

بارسلونا/بارسلونا کے ضلع سانتس مونتجوئک میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور پولیس نے ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران بنائے گئے ایک زیرِ زمین فضائی حملہ پناہ گاہ تک رسائی حاصل کر لی ہے، جس سے 1938 کا ایک بڑا ڈھانچہ سامنے آیا ہے۔

یہ کارروائی بدھ کے روز Carrer del 26 de Gener de 1641 پر کی گئی، جہاں کاتالونیا کی پولیس (موسوس دِ اسکوادرا) کی زیرِ زمین یونٹ اور شہر کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے حال ہی میں دریافت ہونے والے تین داخلی راستوں میں سے ایک کے ذریعے اندر داخل ہو کر جائزہ لیا۔

اندر داخل ہونے پر ٹیموں کو تقریباً 200 میٹر طویل پناہ گاہ ملی، جس میں بیت الخلا، پانی کی فراہمی، مٹی کے برتن، برقی تنصیبات اور اینٹوں سے بنی دیواریں شامل ہیں۔ دیواروں میں کچھ خانے بھی پائے گئے جو غالباً الماریوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

یہ داخلی راستے اسی ماہ کے آغاز میں سڑک کی تعمیرِ نو کے دوران دریافت ہوئے تھے، جو ہوستافرینکس اور لا بوردیتا کے علاقوں کے درمیان واقع ہے۔ پہلا راستہ 3 مارچ کو ملا، جبکہ اسی دن اور 11 مارچ کو مزید دو راستے دریافت کیے گئے۔

Screenshot

ماہرین آثارِ قدیمہ نے ملبہ ہٹا کر اور مخصوص جگہوں پر کھدائی کر کے زیرِ زمین ڈھانچے کی موجودگی کی تصدیق کی۔

کھدائی کی نگران آریادنا مونوز کے مطابق یہ پناہ گاہ غالباً 1938 میں ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران تعمیر کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا، “یہ کافی بڑی پناہ گاہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے منصوبہ بندی کے ساتھ بنایا گیا، مگر یہ مکمل نہیں ہو سکی۔ غالباً جلد بازی میں کام کیا گیا اور ادھورا چھوڑ دیا گیا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اس کی سرنگ ایک جگہ جا کر اچانک ختم ہو جاتی ہے۔

اس پناہ گاہ کو سرکاری ریکارڈ میں ’0657‘ کے نام سے درج کیا گیا ہے۔ اندرونی حصے میں ایک طرف بیت الخلا، پانی کی سہولت اور چھت کے ساتھ برقی نظام کے آثار ملے ہیں۔ یہ ڈھانچہ ایک گیلری میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر مٹی میں کھودی گئی سرنگ میں داخل ہوتا ہے، جہاں حفاظتی خدشات کے باعث مزید تحقیق روک دی گئی۔

ابتدائی داخلی راستہ نسبتاً بہتر حالت میں ہے، مگر اندرونی حصے خاص طور پر مٹی میں کھودی گئی سرنگ میں حالت خراب ہوتی جاتی ہے۔

پولیس کے سب سرفیس یونٹ کے سارجنٹ ٹونی مولینا کے مطابق باقی دو داخلی راستوں تک فی الحال رسائی ممکن نہیں کیونکہ وہاں ساختی خطرات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا، “کچھ اطرافی حصے الگ ہو چکے ہیں جو حفاظتی لحاظ سے خطرناک ہیں۔ مزید معائنہ کے بعد ہی اگلے اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔”

آنے والے ہفتوں میں مزید تحقیق کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ آیا یہ تینوں داخلی راستے ایک ہی پناہ گاہ کا حصہ ہیں یا الگ الگ ڈھانچے ہیں، جو ممکنہ طور پر اس علاقے میں پہلے سے درج دیگر پناہ گاہوں سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے