نوئیلیا نے ماہرین کو ذہنی صحت کے سماجی عوامل پر زیادہ توجہ دینے پر مجبور کر دیا

Screenshot

Screenshot

بارسلونا میں سامنے آنے والے نوئیلیا کیس‘ کے بعد ذہنی صحت کے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ لوگوں کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کے لیے صرف طبی پہلو کافی نہیں بلکہ سماجی حالات کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔

نوئیلیا نے جمعرات کے روز قانونی حق کے تحت یوتھینیزیا (موت کی اجازت) کے ذریعے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل زندگی کے تجربات، شدید جسمانی اور نفسیاتی تکالیف اور 20 ماہ پر مشتمل قانونی جدوجہد کے بعد کیا گیا۔

ماہرِ صحتِ عامہ مارک اولیویلا کے مطابق، اس طرح کے کیسز ہمیں یہ سمجھنے کا موقع دیتے ہیں کہ انسانی تکلیف کو معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، چاہے وہ فرد کی سطح پر ہو یا اجتماعی سطح پر۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری ذہنی حالت صرف جینیات یا ذاتی خصوصیات کا نتیجہ نہیں بلکہ ہمارے سماجی حالات، جیسے خاندانی ماحول، معاشی دباؤ اور زندگی کے حالات، بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 80 فیصد ذہنی مسائل کا براہِ راست تعلق طبی وجوہات سے نہیں ہوتا بلکہ یہ سماجی عوامل سے جڑے ہوتے ہیں۔ روزمرہ زندگی کا دباؤ، گھریلو مسائل اور معاشرتی حالات انسان کی ذہنی کیفیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

ماہرِ نفسیات خوسے مینوئل لوپیز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امید ایک بنیادی عنصر ہے، لیکن یہ صرف دواؤں یا نفسیاتی تربیت سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق انسانی تعلقات، معاشرے اور زندگی کے حالات سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی کے صدمات، خاص طور پر جنسی زیادتی جیسے تجربات، انسان کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اور اکثر یہ سماجی حالات کے ساتھ مل کر مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ ایسے ممالک میں جہاں یوتھینیزیا قانونی ہے، جیسے نیدرلینڈز، نفسیاتی بنیادوں پر اس کی درخواستوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، جس نے نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا کہیں حد تو عبور نہیں ہو رہی۔

تحقیقی ماہرہ ایلیسا سالا کے مطابق انسانی تعلقات ذہنی صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ایک دوسرے سے جڑنا، محبت، دوستی اور سماجی روابط انسان میں مثبت ہارمونز پیدا کرتے ہیں جو ذہنی سکون کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے برعکس، تنہائی اور زندگی میں مقصد کا فقدان ذہنی مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔

یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے صرف علاج کافی نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے