گھر کا خواب یا وراثت کا انتظار: نوجوانوں کے لیے رہائش ایک بڑا بحران

Screenshot

Screenshot

اسپین میں نوجوانوں کے لیے اپنا گھر حاصل کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے، جہاں بڑھتے ہوئے کرایے، کم تنخواہیں اور سخت بینک شرائط نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ بہت سے نوجوان اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ذاتی گھر حاصل کرنے کا واحد راستہ وراثت ہی رہ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک عام نوجوان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 1200 سے 1300 یورو ہے، جبکہ کرایے 700 یورو یا اس سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ ایسے میں دیگر اخراجات جیسے خوراک، بجلی اور پانی کے بل ادا کرنے کے بعد بچت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان یا تو والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں یا مشترکہ رہائش اختیار کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر خریدنے کے لیے تقریباً 40 ہزار یورو کی ابتدائی رقم درکار ہوتی ہے، جبکہ بینک عموماً صرف 80 فیصد تک قرض فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماہانہ قسط بھی آمدنی کا تقریباً 40 فیصد بن جاتی ہے، جو محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے۔

کچھ افراد کے لیے وراثت ایک سہارا بن رہی ہے۔ ایسے لوگ جو والدین یا دادا دادی سے جائیداد حاصل کرتے ہیں، وہ نسبتاً بہتر مالی حالت میں آ جاتے ہیں اور اپنی زندگی زیادہ آسانی سے گزار سکتے ہیں۔ تاہم ہر کسی کو یہ سہولت میسر نہیں، جس سے معاشرتی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومتی سطح پر کچھ مالی امداد اور اسکیمیں موجود ہیں، مگر بڑی تعداد میں نوجوان ان سے لاعلم ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان سہولیات کے بارے میں آگاہی بڑھائی جائے تو کچھ حد تک مسئلہ کم ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آج صرف 30 فیصد نوجوانوں کے پاس اپنی ملکیت کا گھر ہے، جبکہ ایک دہائی قبل یہ شرح 50 فیصد سے زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی اوسط عمر جس میں وہ پہلا گھر خریدتے ہیں، 40 سال سے تجاوز کر چکی ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف نوجوانوں کی خودمختاری کو متاثر کر رہی ہے بلکہ شرح پیدائش اور سماجی ڈھانچے پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر رہائش کے مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو آنے والے سالوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے