“جنگ نہیں” اسپین اپنے اصولوں پر قائم ہے اپنے نظریات سے دستبردار نہیں ہونگے، پیدروسانچز
Screenshot
وزیراعظم اور سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے سیکرٹری جنرل پیدروسانچز نے پارٹی کارکنوں کے نام اپنے ایک خط میں “جنگ نہیں” کے مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپین اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مستقل مزاجی سے عمل کر رہا ہے اور اپنے نظریات سے دستبردار نہیں ہوتا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسپین امن کے دفاع میں ایک مضبوط اور واضح موقف رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، جب اسپین “جنگ نہیں” کہتا ہے تو یہ صرف حکومت کی آواز نہیں بلکہ پورے معاشرے، تاریخ اور عوام کی نمائندگی ہوتی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے جواب میں ایران نے اپنے اردگرد کے ممالک پر حملے کیے، اور یوں صورتحال مزید بگڑتی گئی۔
سانچز کے مطابق، ایک ماہ سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک، چالیس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور غذائی بحران کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپین نے ابتدا سے ہی واضح طور پر “جنگ نہیں” کا مؤقف اپنایا، جو 23 سال قبل عوامی تحریکوں سے سیکھا گیا تھا، جب لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر جنگ کی مخالفت کی تھی۔ ان کے بقول، امن کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک مضبوط یقین، ضرورت اور عوامی مطالبہ ہے۔
انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ مشکل وقت میں واضح مؤقف اپنانے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ سوشلسٹ ہمیشہ درست سمت کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور غزہ میں تشدد کے خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
آخر میں، انہوں نے کہا کہ حکومت نے حالیہ معاشی و سماجی اقدامات کے ذریعے کروڑوں خاندانوں اور لاکھوں کاروباروں کو جنگ کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی ہے، اور یہ کہ وہ امن، عوام کے تحفظ اور درست مؤقف کے لیے پرعزم ہیں۔