اتحادیوں کی حمایت نہیں ملی،نیٹو سے نکل جائیں گے،ٹرمپ کا سنجیدگی سے غور
Screenshot
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے NATO سے نکلنے کے معاملے پر “سنجیدگی سے غور” کر رہے ہیں، اور انہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں اتحادی ممالک کی حمایت نہ ملنے پر تنقید بھی کی ہے۔
انہوں نے برطانوی اخبار ‘ٹیلیگراف’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا“میں کہوں گا کہ یہ معاملہ سنجیدگی سے زیر غور ہے۔ میں کبھی بھی نیٹو سے متاثر نہیں ہوا۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ یہ ایک کاغذی شیر ہے۔”
ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ نیٹو نے ایران کے خلاف امریکی مہم میں واشنگٹن کا ساتھ نہیں دیا، حالانکہ ان کے مطابق اس اتحاد میں ایسی حمایت “خودکار” ہونی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا“ہم ہمیشہ ان کے ساتھ رہے ہیں، یوکرین میں بھی۔ یوکرین ہمارا مسئلہ نہیں تھا، مگر ہم ان کے لیے کھڑے ہوئے۔ وہ ہمارے لیے کھڑے نہیں ہوئے۔”
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز سے ہی یورپ کی بڑی طاقتیں جیسے جرمنی، فرانس اور برطانیہ اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر چکی ہیں۔ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے ایک ممکنہ بحری مشن میں ان ممالک سے تعاون مانگا۔
بعد ازاں اسپین اور اٹلی نے بھی اپنے علاقوں میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ معاہدوں کی حدود سے باہر ہے۔
ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں، خاص طور پر یورپی ممالک، کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے بحران میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے۔
انہوں نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہا“انہیں خود اپنا دفاع کرنا سیکھنا ہوگا۔ امریکہ اب ان کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، جیسے وہ ہمارے لیے نہیں تھے۔”
بعد میں امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے بھی کہا کہ امریکہ کو نیٹو کی افادیت کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ کچھ ممالک، جن میں اسپین بھی شامل ہے، نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے اپنی فوجی تنصیبات کے استعمال پر پابندیاں لگائی ہیں۔
روبیو کے مطابق“ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آیا نیٹو اب بھی اپنے مقصد کو پورا کر رہا ہے یا یہ یکطرفہ فائدے کا معاہدہ بن چکا ہے۔”