منریسا میں مہاجرت اور دائیں بازو کے دباؤ کے باوجود مثالی ہم آہنگی قائم

Screenshot

Screenshot

کاتالونیا کے شہر منریسا میں مہاجرت میں نمایاں اضافے اور دائیں بازو کی سیاست کے ابھار کے باوجود سماجی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی ایک مثبت مثال سامنے آئی ہے۔ شہر کی کل آبادی میں غیر ملکیوں کا تناسب اب 20.6 فیصد تک پہنچ چکا ہے، لیکن مقامی انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان مکالمہ اور شمولیت کے عمل نے کشیدگی کو محدود رکھا ہے۔

سینیگال سے تعلق رکھنے والے مامادو سانوسی، جو 2000 میں بہتر مستقبل کی تلاش میں یہاں آئے، اپنے ابتدائی دنوں کو مشکل قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑا اور بعض مقامات پر داخلے سے بھی روکا گیا۔ تاہم وقت کے ساتھ حالات میں واضح بہتری آئی ہے۔ آج وہ اپنی دکان چلا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ نئی نسل زیادہ آزاد اور پُرامن ماحول میں زندگی گزار رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق منریسا میں غیر ملکی آبادی کی تعداد تقریباً 18 ہزار ہو چکی ہے، جن میں بڑی تعداد مراکش اور لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ اس دوران دائیں بازو کی جماعتوں نے بھی بلدیاتی سیاست میں جگہ بنائی، تاہم اس کے باوجود شہر میں بڑے پیمانے پر نسلی تصادم دیکھنے میں نہیں آیا۔

میئر Marc Aloy کے مطابق عوامی خدمات پر دباؤ ضرور ہے، لیکن اس کا ذمہ دار مہاجرین کو قرار دینا درست نہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مختلف کمیونٹیز کا شہر کے مرکزی علاقوں میں ایک ساتھ رہنا سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بناتا ہے۔

شہر کے قدیم علاقے میں سستی رہائش کی دستیابی کے باعث زیادہ تر مہاجرین وہیں مقیم ہیں، جہاں حکومت نے 25 ملین یورو کی لاگت سے ترقیاتی منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس کے تحت درجنوں گھروں کی مرمت اور بہتری کی جائے گی۔

حکام کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے جاری بین المذاہب مکالمہ اور سماجی روابط نے منریسا کو ایک ایسی مثال بنا دیا ہے جہاں تنوع کے باوجود امن اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے