برطانیہ کی یورپی یونین میں واپسی کی خبریں بے بنیاد، صرف تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری

IMG_4898

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع پر یہ دعویٰ گردش کرتا رہا کہ یورپی یونین  نے برطانیہ کی دوبارہ شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، تاہم مستند رپورٹس اور حکومتی بیانات کے مطابق اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔

برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ یورپ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور ایک “closer partnership” کی طرف بڑھنے کی خواہاں ہے، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ برطانیہ دوبارہ یورپی یونین کا رکن بننے جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ملک نہ تو EU کے سنگل مارکیٹ میں واپس جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی کسٹمز یونین میں شامل ہونے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔

یاد رہے کہ برگزٹ کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین کے تعلقات میں کئی اتار چڑھاؤ آئے، تاہم حالیہ عرصے میں دونوں فریقین نے تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت کی ہے۔ 2025 میں تجارت اور دفاعی شعبوں میں ایک اہم “ری سیٹ” معاہدہ طے پایا، جس کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا، نہ کہ مکمل رکنیت کی بحالی۔

اسی طرح برطانیہ نے تعلیمی پروگرام Erasmus+ میں دوبارہ شمولیت پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے طلبہ اور تعلیمی اداروں کو فائدہ پہنچے گا، لیکن یہ اقدام بھی مکمل EU رکنیت کے مترادف نہیں۔

مزید برآں بعض یورپی رہنماؤں کی جانب سے یہ بیانات بھی سامنے آئے کہ اگر برطانیہ مستقبل میں واپسی کا ارادہ کرے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا، تاہم برطانوی حکومت نے اس امکان کو فی الحال مسترد کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان فاصلے کم ہو رہے ہیں، لیکن مکمل انضمام کی طرف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ برطانیہ EU کے قریب ضرور آ رہا ہے، مگر دوبارہ شمولیت کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے