ٹیسلا الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں پھر ناکام
Screenshot
امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی Tesla Inc. ایک بار پھر اپنی سہ ماہی فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کمپنی نے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں دنیا بھر میں 3 لاکھ 58 ہزار 23 گاڑیاں فراہم کیں، جبکہ ماہرین کی توقعات اس سے کہیں زیادہ تھیں۔
مالیاتی ادارے Bloomberg کے مطابق تجزیہ کاروں نے اوسطاً 3 لاکھ 72 ہزار 160 گاڑیوں کی فروخت کا اندازہ لگایا تھا، تاہم حقیقی اعداد و شمار اس سے کم رہے۔ یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب ٹیسلا اپنی فروخت کے اہداف سے پیچھے رہی ہے، جو کمپنی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن رہا ہے۔
اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں فروخت میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ اضافہ توقعات کے لحاظ سے ناکافی ہے۔ کمپنی کو نہ صرف عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مسابقت بلکہ صارفین کے بدلتے رجحانات کا بھی سامنا ہے۔ خاص طور پر چینی کمپنیوں کی جانب سے سستی اور جدید الیکٹرک گاڑیوں کی پیشکش نے مارکیٹ کو مزید سخت بنا دیا ہے۔
کمپنی کے سربراہ ایلون مسک کی جانب سے حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت، خودکار گاڑیوں اور روبوٹکس پر توجہ مرکوز کرنے کو بھی بعض تجزیہ کار بنیادی کاروبار سے توجہ ہٹانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود، ٹیسلا کی آمدنی کا بڑا حصہ اب بھی گاڑیوں کی فروخت سے ہی وابستہ ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت کی پالیسیوں نے بھی مارکیٹ پر اثر ڈالا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس مراعات ختم کیے جانے کے بعد طلب میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے کمپنی کی فروخت متاثر ہوئی۔
اس خبر کے بعد ٹیسلا کے شیئرز میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ کمپنی کے حصص اس سال اب تک 15 فیصد گر چکے ہیں اور دسمبر میں بننے والی بلند ترین سطح سے 22 فیصد نیچے آ چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیسلا نے جلد اپنی حکمت عملی میں توازن پیدا نہ کیا تو اسے مستقبل میں مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایک ایسی مارکیٹ میں جہاں مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔