پوپ لیو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام کے کر تنقید،جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی “راستہ نکالیں”
Screenshot
ویٹیکن سٹی/ گزشتہ سال مئی میں پوپ لیو عالمی کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی سربراہ بنے تھے، لیکن اپنے دورِ اقتدار کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران انہوں نے زیادہ تر اپنے آبائی ملک کے بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کبھی بھی عوامی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہیں لیا۔
حالیہ ہفتوں میں پوپ نے ایران جنگ پر سخت تنقید شروع کر دی ہے۔ منگل کے روز انہوں نے پہلی بار براہِ راست ٹرمپ کا نام لیتے ہوئے اپیل کی کہ وہ اس بڑھتے ہوئے تنازع کو ختم کریں۔
ماہرین کے مطابق یہ انداز اور لہجے میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوپ عالمی سطح پر ٹرمپ اور ان کی خارجہ پالیسی کے مقابل ایک توازن قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ویٹیکن امور کے ماہر اطالوی اسکالر فگیولی کے مطابق، “میرا نہیں خیال کہ وہ چاہتے ہیں کہ ویٹیکن کو ٹرمپ ازم کے حوالے سے نرم سمجھا جائے، صرف اس لیے کہ وہ خود امریکی ہیں۔”
پوپ لیو، جو اپنے محتاط اندازِ گفتگو کے لیے جانے جاتے ہیں، نے ٹرمپ سے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی “راستہ نکالیں”۔ انہوں نے یہ جملہ امریکی طرزِ اظہار میں استعمال کیا تاکہ صدر اور ان کی انتظامیہ بہتر طور پر سمجھ سکے۔
فگیولی نے کہا، “جب پوپ بولتے ہیں تو بہت سوچ سمجھ کر بولتے ہیں، یہ الفاظ اتفاقاً استعمال نہیں ہوئے۔”
شکاگو کے کارڈینل Blase Cupich، جو پوپ کے قریبی ساتھی ہیں، کا کہنا ہے کہ پوپ لیو ان پوپ حضرات کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں جو عالمی رہنماؤں کو جنگ سے دور رہنے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “فرق صرف یہ ہے کہ اب پیغام دینے والی آواز ایسی ہے جسے امریکی اور انگریزی بولنے والی دنیا آسانی سے سمجھ سکتی ہے۔”
براہِ راست ٹرمپ سے اپیل کرنے سے دو دن قبل، پوپ لیو نے غیر معمولی سخت لہجے میں کہا تھا کہ خدا ان رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جو جنگ شروع کرتے ہیں اور جن کے “ہاتھ خون سے رنگے ہوں”۔
قدامت پسند کیتھولک مبصرین نے ان بیانات کو امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth کی جانب اشارہ قرار دیا، جنہوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو جائز قرار دینے کے لیے مذہبی زبان استعمال کی تھی۔