فلسطین کی حمایت،فرانس میں یورپی رکن پارلیمنٹ ریما حسن کو گرفتار کر لیا گیا،

Screenshot

Screenshot

فرانس میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کو “دہشت گردی کی حمایت” کے شبہے میں پولیس نے حراست میں لے لیا، جس کے بعد ملک میں سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی، جس میں ماضی کے ایک حملہ آور کا حوالہ دیا گیا تھا۔

ریما حسن، جو فرانسیسی نژاد فلسطینی وکیل اور کارکن ہیں، 2024 میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور غزہ میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے باعث نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی جماعت La France Insoumise (ایل ایف آئی) نے اس گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

جماعت کے بانی Jean-Luc Mélenchon نے کہا کہ یہ معاملہ ایک ری ٹویٹ سے متعلق ہے اور سوال اٹھایا کہ آیا اب فرانس میں پارلیمانی استثنیٰ باقی نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہ اقدام ناقابل قبول ہے اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی اخبار Le Parisien اور خبر رساں اداروں کے مطابق پولیس حراست کے وقت حسن کے پاس سے معمولی مقدار میں مصنوعی منشیات بھی برآمد ہوئی، تاہم اس حوالے سے ان یا ان کے وکیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر تقسیم واضح ہے۔ دائیں بازو کی جماعت Rassemblement National سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں نے اس کارروائی کا خیرمقدم کیا، جبکہ ایل ایف آئی کے رہنماؤں نے اسے فلسطین کے حامیوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

فرانسیسی قومی اسمبلی کی رکن Sophia Chikirou نے کہا کہ پولیس اور عدالتی نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح Mathilde Panot نے صدر ایمائیل ماکرون  کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ فرانس میں آزادی اظہار، فلسطین کے مسئلے اور داخلی سیاست کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے