ایم-30 کی سرنگوں میں مہلک ریس کیس: ایک ملزم کا اظہارِ ندامت، دونوں کے لیے 15 سال قید کا مطالبہ
Screenshot
میڈرڈ کی مصروف شاہراہ ایم-30 کی سرنگوں میں 2021 میں ہونے والی خطرناک ریس کے نتیجے میں ایک ڈاکٹر کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے، جس میں استغاثہ نے دونوں ملزمان کے لیے 15، 15 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ مقدمہ صوبائی عدالت میں جیوری کے سامنے زیرِ سماعت ہے اور اس نے ایک بار پھر تیز رفتاری اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق 25 جولائی 2021 کو دونوں ملزمان نے تقریباً چار کلومیٹر تک ایم-30 کی سرنگوں میں انتہائی تیز رفتاری سے گاڑیاں دوڑائیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے خطرناک انداز میں لین تبدیل کرتے اور دیگر گاڑیوں کو زگ زیگ انداز میں اوورٹیک کرتے رہے۔ ان کی رفتار اوسطاً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی جبکہ بعض اوقات یہ 178 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا پہنچی، حالانکہ اس مقام پر مقررہ حدِ رفتار صرف 70 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ اس دوران ایک ملزم منشیات کے زیرِ اثر بھی تھا۔ جب یہ دونوں گاڑیاں آگے موجود ٹریفک کے قریب پہنچیں تو ایک ملزم کی گاڑی نے سامنے والی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ گاڑی تقریباً 35 میٹر تک اچھل گئی۔ اس حادثے میں 35 سالہ ڈاکٹر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ ایک اور ڈرائیور زخمی ہوا۔
الزامات کے تحت ایک ملزم پر لاپرواہ ڈرائیونگ، قتل اور زخمی کرنے کا مقدمہ ہے، جبکہ دوسرے پر منشیات کے زیرِ اثر ڈرائیونگ، بغیر لائسنس گاڑی چلانے، لاپرواہ ڈرائیونگ، قتل اور زخمی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، ایک ملزم پر جائے حادثہ سے فرار ہونے کا بھی الزام ہے۔
متاثرہ خاندان کے لیے تقریباً 12 لاکھ 90 ہزار یورو سے زائد معاوضے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ معاوضہ مقتول کی بیوہ، جو اس وقت حاملہ تھیں، ان کے دو کمسن بچوں اور والدین کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران ایک ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کا مؤکل اپنے عمل پر شدید شرمندہ ہے اور ہمیشہ پچھتاتا رہے گا، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ دانستہ قتل نہیں بلکہ ایک سنگین غفلت کا نتیجہ تھا۔ دوسری جانب، دوسرے ملزم کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ اس کا مؤکل خود بھی خطرے کا شکار تھا اور اس نے جان بوجھ کر کوئی خطرناک حرکت نہیں کی۔
یہ مقدمہ اب آئندہ سماعتوں میں مزید شواہد اور گواہیوں کے ساتھ آگے بڑھے گا، جبکہ عوامی سطح پر بھی اس کیس کو خاص توجہ حاصل ہے۔