یورپی یونین کا بڑا فیصلہ: ہوٹلوں میں منی شیمپو اور سنگل یوز پلاسٹک اشیاء مرحلہ وار ختم کرنے کا اعلان
Screenshot
یورپی یونین نے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں استعمال ہونے والی سنگل یوز پلاسٹک اشیاء کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئے ضابطے کے تحت ہوٹلوں میں دی جانے والی چھوٹی شیمپو، جیل اور دیگر کاسمیٹک مصنوعات کی بوتلیں آئندہ برسوں میں مرحلہ وار ختم کر دی جائیں گی۔
یورپی پارلیمنٹ اور کونسل کے ضابطہ (EU) 2025/40 کے مطابق اس اقدام کا مقصد پلاسٹک کے فضلے میں کمی لانا، ری سائیکلنگ کو فروغ دینا اور ماحول دوست متبادل کو عام کرنا ہے۔ حکام کے مطابق 2022 میں یورپی یونین کے ہر شہری نے اوسطاً 36.1 کلوگرام پلاسٹک پیکجنگ ویسٹ پیدا کیا، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
نئے قانون کے تحت ہوٹلوں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ منی شیمپو اور صابن جیسی اشیاء کی جگہ بڑے سائز کے ڈسپنسرز، ریفل ایبل بوتلیں یا غیر پلاسٹک مواد استعمال کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹی بوتلیں نہ صرف زیادہ فضلہ پیدا کرتی ہیں بلکہ ان کی ری سائیکلنگ بھی مشکل ہوتی ہے۔
یہ پابندی صرف ہوٹلوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ریسٹورنٹس اور کیفے میں استعمال ہونے والے چھوٹے پیکٹس جیسے کیچپ، چینی، نمک اور مایونیز کے سنگل یوز پیک بھی اس کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ ان اشیاء کو بھی ماحول دوست متبادل سے تبدیل کرنا لازمی ہوگا۔
یہ ضابطہ اگست 2026 سے مرحلہ وار نافذ ہونا شروع ہوگا، جس کے تحت یورپی ممالک کو پیکجنگ ویسٹ کم کرنے، ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنانے اور مشترکہ لیبلنگ سسٹم متعارف کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم ہوٹلوں کی منی بوتلوں اور سنگل یوز پیکٹس پر مکمل پابندی جنوری 2030 سے نافذ ہوگی۔
یاد رہے کہ اسپین سمیت کئی یورپی ممالک میں پہلے ہی پلاسٹک کی کچھ اشیاء پر پابندی عائد ہے، لیکن رپورٹس کے مطابق بعض مقامات پر ان قوانین پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ماہرین کے مطابق نئی قانون سازی ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔