ایران جنگ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم، ٹرمپ کی ایران کی عوام کے خلاف دھمکی کو “ناقابل قبول” قرار،پوپ لیو

Screenshot

Screenshot

ویٹیکن سٹی/ پوپ لیو چہار دہم نے بدھ کے روز ایران جنگ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، چند گھنٹے بعد انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کی عوام کے خلاف دھمکی کو “ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں جنگ پر کھل کر تنقید کرنے والے پوپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے اعلان کا اطمینان کے ساتھ خیرمقدم کرتے ہیں اور مکمل طور پر تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔

اپنے ہفتہ وار خطاب میں انہوں نے کہا“مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے حالیہ گھنٹوں میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے پیشِ نظر، میں فوری دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کا اطمینان کے ساتھ خیرمقدم کرتا ہوں۔”

انہوں نے مزید کہا“صرف مذاکرات کی طرف واپسی ہی جنگ کے خاتمے کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔”

پوپ لیو چہار دہم، جو اپنے محتاط اندازِ گفتگو کے لیے جانے جاتے ہیں، حالیہ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پر اپنی تنقید میں اضافہ کر رہے ہیں۔

منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے امریکی مطالبات کے مطابق جنگ بندی قبول نہ کی تو “ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو سکتی ہے”۔ اس پر پوپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بیان کو “واقعی ناقابل قبول” قرار دیا۔

دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا کے طور پر، پوپ کا کسی عالمی رہنما کو براہِ راست جواب دینا ایک غیر معمولی امر سمجھا جاتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے