لبنان میں ہسپانوی امن فوجی کی گرفتاری، اسپین کے سخت احتجاج پر فوری رہائی

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت تعینات ایک ہسپانوی فوجی کو اسرائیلی فوج کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، تاہم اسپین کے شدید احتجاج کے بعد اسے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں رہا کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور امن مشن کو متعدد خطرات کا سامنا ہے۔

اسپین کی وزیر دفاع مارگریتا روبلس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا، جب ہسپانوی فوجی ایک لاجسٹک قافلے کا حصہ تھے جو انڈونیشی دستے کو خوراک اور ضروری سامان فراہم کرنے جا رہا تھا۔ اس دوران اسرائیلی گشتی دستے نے قافلے کو روک لیا اور ایک ہسپانوی اہلکار کو عارضی طور پر حراست میں لے لیا۔

وزیر دفاع کے مطابق اسپین نے فوری طور پر اقوام متحدہ اور اسرائیلی حکومت کے سامنے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا، جس کے بعد مذکورہ فوجی کو جلد ہی رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے “ناقابل قبول” عمل کہا اور مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اقوام متحدہ کے مشن، جسے UNIFIL کہا جاتا ہے، نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی تھی، تاہم ابتدائی طور پر فوجی کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ بعد ازاں اسپین نے اس کی تفصیلات سامنے لائیں۔

معلومات کے مطابق یہی قافلہ اس سے قبل بھی رکاوٹوں کا سامنا کر چکا تھا اور اسے اپنی منزل کی جانب بڑھنے سے روکا گیا تھا۔ وزیر دفاع نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ امن مشن کے خلاف اقدامات بند کرے۔

ادھر لبنان میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے، جہاں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری رہتی ہیں۔ ان حالات میں امن فوجیوں کو بنکرز میں رہ کر اپنے فرائض انجام دینا پڑ رہے ہیں۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود اسپین نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے فوجی دستے کو لبنان سے واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اسپین اقوام متحدہ کے امن مشنز پر مکمل یقین رکھتا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

مزید برآں، اسپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان میں زخمیوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے ایک فوجی طبی ٹیم بھی روانہ کرے گا، جو مرجعیون میں قائم “مگویل دے سروانتس” بیس پر خدمات انجام دے گی۔ یہ اقدام موجودہ کشیدہ حالات میں طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے