میڈرڈ اور فیونلابرادا میں غیر ملکیوں کے استحصال پر 7 افراد گرفتار، کال سینٹرز میں شرمناک سزاؤں کا انکشاف

Screenshot

Screenshot

نیشنل پولیس کے اہلکاروں نے میڈرڈ اور فیونلابرادا میں کارروائی کرتے ہوئے سات افراد (چار مرد اور تین خواتین) کو گرفتار کر لیا ہے، جو غیر ملکی شہریوں سے کال سینٹرز میں جبری اور استحصالی مشقت کرواتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے ملازمین کے لیے نہایت تضحیک آمیز سزاؤں کا نظام قائم کر رکھا تھا، جن میں ساتھیوں کے سامنے چہرے پر کیک پھینکنا بھی شامل تھا۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ یہ نیٹ ورک 15 مختلف کال سینٹرز پر مشتمل تھا، جہاں کارکنان کو مکمل طور پر اپنے سپروائزرز کے زیرِ اثر رکھا جاتا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب حکام کو ایسے متعدد مراکز کی اطلاع ملی جہاں ملازمت کے نام پر لوگوں کو سخت اور غیر قانونی شرائط پر رکھا جا رہا تھا۔

یہ تحقیقات Inspección de Trabajo y Seguridad Social کے تعاون سے کی گئیں۔ ملزمان پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے دفاتر کے مقامات مسلسل تبدیل کرتے رہے، تاہم پولیس نے انہیں میڈرڈ اور فیونلابرادا میں ٹریس کر لیا۔

مزید انکشاف ہوا کہ متاثرہ افراد زیادہ تر غیر ملکی تھے جن کے پاس ورک پرمٹ نہیں تھا، اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں بدترین حالات میں کام پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ملازمین کو روزانہ مخصوص اہداف پورے کرنے کے لیے اسکرپٹ دیے جاتے تھے، جن کا مقصد صارفین کو الجھا کر مختلف مصنوعات یا سروسز فروخت کروانا تھا۔

ان کال سینٹرز میں روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کی درجہ بندی (رینکنگ) کی جاتی تھی، اور جو ملازم سب سے پیچھے رہتا اسے ساتھیوں کے سامنے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا۔ اس خوف کے باعث کارکنان طویل اوقات تک بغیر وقفے کے کام کرنے پر مجبور تھے۔

ملازمین کو نہ مناسب تنخواہ دی جاتی تھی، نہ چھٹیاں، نہ ہی میڈیکل سہولت یا کسی حادثے کی صورت میں انشورنس فراہم کی جاتی تھی۔

10 مارچ کو پولیس نے 15 کال سینٹرز پر چھاپے مارے اور مرکزی ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت کے حوالے کر دیا، جن پر مزدوروں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے