اسرائیل نےکثیر ملکی ادارے سینٹر فار سول،ملٹری کوآرڈینیشن سے اسپین کو خارج کردیا

Screenshot

Screenshot

اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے کثیر ملکی ادارے سینٹر فار سول،ملٹری کوآرڈینیشن (CMCC) سے اسپین کو خارج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ہسپانوی حکومت کی مبینہ “اسرائیل مخالف جنونیت” کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بیان دیا کہ اسپین نے اسرائیلی فوجیوں، جنہیں انہوں نے “دنیا کی سب سے اخلاقی فوج” کہا، کو بدنام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے حکم دیا کہ اسپین کے نمائندوں کو کیریات گیٹ میں قائم اس رابطہ مرکز سے نکال دیا جائے۔

نیتن یاہو نے مزید الزام لگایا کہ اسپین اسرائیل کے خلاف “سفارتی جنگ” لڑ رہا ہے اور “دہشت گرد حکومتوں” کا ساتھ دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں وہ خطے کے مستقبل میں اسرائیل کے اتحادی نہیں بن سکتے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سائر نے بھی یہی مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پیدروسانچز کی حکومت کا “واضح اسرائیل مخالف جھکاؤ” اسے امن منصوبے پر عمل درآمد میں ایک مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں چھوڑتا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، اسپین کو اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے اور امریکہ کو بھی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز اور ان کی حکومت نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے خلاف فوجی اقدامات پر تنقید کی ہے، جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے تحت CMCC کو غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی، انسانی امداد کی فراہمی اور استحکام کے اقدامات کو مربوط کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس میں تقریباً 20 ممالک شامل ہیں اور یہ غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے