آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ،خطے میں صورتحال مزید کشیدہ
Screenshot
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ہے، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (انقلابی گارڈ) کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بحری راستے پر دوبارہ “سخت کنٹرول” قائم کر دیا ہے۔ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف جاری ناکہ بندی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
برطانوی ادارے UKMTO کے مطابق، عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 20 بحری میل کے فاصلے پر ایک آئل ٹینکر پر دو کشتیوں نے فائرنگ کی، جنہیں جہاز کے کپتان نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر بدھ تک ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے نہ پایا تو وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے حوالے سے “کافی اچھی خبریں” موصول ہو رہی ہیں، اگرچہ انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اسی دوران مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے لبنان میں اقوام متحدہ کے ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار حزب اللہ کو ٹھہرایا ہے۔ اسرائیل نے بھی حزب اللہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے لبنان میں نئے حملے شروع کر دیے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی بحریہ دشمنوں کو “سخت اور تکلیف دہ شکست” دینے کے لیے تیار ہے۔
سپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر محتاط رویہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل میں وقت درکار ہوگا۔
موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی غلط قدم کے سنگین عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔