ٹرمپ کی اسپین پر کڑی تنقید، معاشی کارکردگی کو “قابلِ افسوس” قرار دے دیا

Screenshot

Screenshot

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسپین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی معاشی صورتحال کو “تباہ کن” اور “قابلِ افسوس” قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری کیا، جس میں انہوں نے نہ صرف اسپین کی معیشت پر سوال اٹھائے بلکہ نیٹو میں اس کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ “کیا کسی نے دیکھا ہے کہ اسپین کی حالت کتنی خراب ہے؟ اس کے معاشی اعداد و شمار مکمل طور پر تباہ کن ہیں، جبکہ وہ نیٹو میں بھی تقریباً کچھ نہیں دیتا۔ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔” ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر دفاعی اخراجات اور اتحادی ممالک کی ذمہ داریوں پر بحث جاری ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے اسپین پر اس نوعیت کی تنقید کی ہو۔ اس سے قبل بھی وہ بارہا نیٹو میں اسپین کی کم مالی شراکت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسپین وہ واحد ملک ہے جو اپنے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کی تجویز کی مخالفت کر رہا ہے۔

دوسری جانب اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز نے بارسلونا میں “جمہوریت کے دفاع” سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر انہوں نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی انتہاپسند دائیں بازو کی سیاست پر تشویش کا اظہار کیا اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور دیا۔

سانچیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ “ہمیں خوف کا مقابلہ مزید جمہوریت سے اور عدم مساوات کا مقابلہ زیادہ انصاف سے کرنا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کو صرف بچانا کافی نہیں بلکہ اسے مسلسل مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔

اگرچہ اجلاس میں ٹرمپ کا نام براہ راست نہیں لیا گیا، لیکن مبصرین کے مطابق ان کی پالیسیوں اور بیانات کا اثر واضح طور پر بحث کا حصہ رہا۔ موجودہ صورتحال میں ٹرمپ اور اسپین کی حکومت کے درمیان بیانات کی یہ جنگ عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں دفاعی اخراجات، معیشت اور جمہوری اقدار جیسے معاملات مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے