مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: ایوی ایشن فیول مہنگا، فضائی ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ
Screenshot
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد صورتحال، عالمی فضائی صنعت پر اثر انداز ہونا شروع ہو گئی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ہوائی جہازوں کے ایندھن (کیروسین) کی قیمت میں گزشتہ ایک سال کے دوران 123 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث ایئرلائنز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کیروسین کی قیمت بڑھ کر 203.6 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ اگرچہ ابھی تک فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، تاہم کچھ ایئرلائنز نے اضافی چارجز عائد کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک یورپی ایئرلائن نے فی ٹکٹ 14 یورو اضافی وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کسی بھی ایئرلائن کے مجموعی اخراجات کا 20 سے 25 فیصد حصہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہِ راست ٹکٹوں کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ امریکی ایئرلائن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی اس صورتحال کو صنعت کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، عالمی ادارے جیسے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی اورانٹرنیشنل ائیر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو مئی کے آخر تک ایندھن کی کمی کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر یا منسوخی بھی ممکن ہے۔
یورپ میں روزانہ تقریباً 1.6 ملین بیرل کیروسین استعمال ہوتا ہے جبکہ پیداوار صرف 1.1 ملین بیرل ہے، باقی ایندھن خلیجی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اسی انحصار کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال براہِ راست یورپی فضائی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
تاہم اسپین کی صورتحال نسبتاً بہتر بتائی جا رہی ہے، جہاں مقامی ریفائنریاں تقریباً 80 فیصد ایندھن کی ضروریات پوری کر دیتی ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں کسی بھی بحران کے اثرات بالآخر اسپین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
مزید برآں، کچھ ایئرلائنز “ٹینکرنگ” حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہیں، جس کے تحت وہ ان ہوائی اڈوں سے زیادہ ایندھن بھروا رہی ہیں جہاں سپلائی بہتر ہے، تاکہ دیگر مقامات پر ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں فضائی سفر مہنگا ہونا تقریباً یقینی ہے۔