بارسلونا میں ترقی پسند رہنماؤں کا اجلاس: سانچیز نے جمہوریت کے تحفظ اور ٹرمپ کے خلاف اتحاد کی اپیل کر دی
Screenshot
اسپین کے دارالحکومت بارسلونا میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی فورم “جمہوریت کے دفاع میں” کے دوران وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے ترقی پسند رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم، غلط معلومات اور طاقت کے استعمال کے رجحان کے خلاف متحد ہو جائیں۔ اس اجلاس میں مختلف ممالک کے بائیں بازو کے رہنما شریک ہوئے جنہوں نے عالمی جمہوری نظام کو درپیش چیلنجز پر غور کیا۔
سانچیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریت کو کبھی بھی معمولی یا یقینی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق آج دنیا میں طاقت کے استعمال کو خطرناک حد تک معمول بنایا جا رہا ہے، جو عالمی امن اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاشروں میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور جھوٹی معلومات جمہوری نظام کو اندر سے کمزور کر رہی ہیں۔
وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ صرف مزاحمت کافی نہیں بلکہ ترقی پسند قوتوں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جمہوریت کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو جمہوری نظام اندر سے کھوکھلا ہو سکتا ہے۔
سانچیز نے بین الاقوامی ادارے اقوام متحدہ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ موجودہ عالمی نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کو زیادہ نمائندہ، زیادہ جمہوری اور موجودہ عالمی حقائق کی عکاسی کرنے والا ادارہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قیادت ایک خاتون کے ہاتھ میں ہو تاکہ عالمی سطح پر صنفی برابری کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس میں میکسیکو کی صدر نے بھی شرکت کی، جنہوں نے کیوبا میں کسی بھی فوجی مداخلت کے خلاف مشترکہ اعلامیہ پیش کرنے کی تجویز دی۔ اس موقع پر عالمی سطح پر امن، تعاون اور سفارتی حل پر زور دیا گیا۔
سانچیز نے سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے لیے واضح قوانین نہ بنائے گئے تو یہ معاشروں کو تقسیم کرنے اور نفرت کو بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات کا پھیلاؤ جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
یہ اجلاس ترقی پسند ممالک کے درمیان ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیا ہے، جس کا مقصد عالمی جمہوریت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا اور ایک نیا سیاسی بیانیہ تشکیل دینا ہے۔