اسرائیل نے سانچیز کو “منافق” قرار دے دیا، یورپی یونین سے معاہدہ ختم کرنے کی تجویز پر شدید ردعمل
Screenshot
میڈرڈ: اسرائیل اور اسپین کے درمیان سفارتی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز کو “منافق” قرار دیتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ اسپین آئندہ منگل کو برسلز میں یورپی یونین سے مطالبہ کرے گا کہ اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدہ ختم کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول “جو حکومت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرے وہ یورپ کی شراکت دار نہیں رہ سکتی”۔
اس بیان کے فوراً بعد اسرائیلی وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ “کسی ایسے شخص کی منافقانہ باتیں قبول نہیں کریں گے” جو خود ان ممالک سے تعلقات رکھتا ہے جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں، جن میں ترکی اور وینزویلا شامل ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ہسپانوی حکومت کو ایران جیسے سخت گیر نظام اور بعض تنظیموں کی جانب سے سراہا گیا ہے، جبکہ یہ حکومت مبینہ طور پر دوہرے معیار پر عمل کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کو ہسپانوی عوام سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ اختلاف صرف حکومت کی پالیسیوں سے ہے۔
دوسری جانب سانچیز کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور غزہ سمیت دیگر علاقوں میں جاری صورتحال یورپی اقدار کے منافی ہے۔ اسپین نے آئرلینڈ اور سلووینیا کے ساتھ مل کر یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ نظرثانی کی جائے اور تمام آپشنز، حتیٰ کہ معطلی بھی زیر غور لائی جائے۔
یورپی یونین کی سطح پر اس معاملے پر اتفاق رائے تاحال نہیں ہو سکا، کیونکہ معاہدے کی معطلی کے لیے تمام 27 رکن ممالک کی منظوری درکار ہے، جو فی الحال ممکن نظر نہیں آتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان بازی نہ صرف اسپین اور اسرائیل کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہے بلکہ یورپی یونین کے اندر بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے مستقبل پر ایک بڑی بحث کو جنم دے رہی ہے۔