ایران جنگ کے اثرات: کنڈوم بھی مہنگے، استعمال میں کمی 

Screenshot

Screenshot

 کنڈوم کی تیاری، سپلائی، پیداوار، نقل و حمل اور لاجسٹکس کا پورا نظام ایران کے خلاف جاری جنگ سے متاثر ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں بالغ افراد میں کنڈوم کے استعمال میں کمی دیکھی گئی ہے، جہاں اب صرف 21 فیصد لوگ اسے باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نصف ہے۔

ایران جنگ کے اثرات نے عام صارفین کی زندگی مہنگی کر دی ہے۔ اس مہنگائی کا اثر صرف ایندھن، خوراک یا ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ایک اور پہلو یعنی جنسی تعلقات تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ملائیشیا کی کمپنی Karex، جو دنیا کی سب سے بڑی کنڈوم بنانے والی کمپنی ہے، نے خبردار کیا ہے کہ وہ قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، کیونکہ جنگ نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔

Karex عالمی مارکیٹ کے تقریباً 20 فیصد حصے کی ذمہ دار ہے اور Durex اور Trojan جیسے برانڈز کو سپلائی فراہم کرتی ہے، اس کے علاوہ مختلف ممالک کے صحت کے نظام اور عالمی انسانی تنظیموں کو بھی کنڈوم مہیا کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق موجودہ صورتحال ایک “کامل طوفان” جیسی ہے، جہاں خام مال مہنگا، توانائی کے اخراجات زیادہ، سمندری ٹرانسپورٹ متاثر اور عالمی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کمپنی کے سی ای او گوہ میاہ کیاٹ کے مطابق، بڑھتے ہوئے اخراجات کو صارفین تک منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے اور یہ اضافہ طویل عرصے میں سب سے بڑا ہوگا۔

 کمپنی کے مطابق کئی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • امونیا (لیٹیکس کو محفوظ رکھنے کے لیے)
  • ایتھانول (پیکجنگ اور پرنٹنگ کے لیے)
  • سلیکون آئل (بطور لبریکینٹ)
  • مصنوعی ربڑ اور نائٹرائل (بنیادی مواد)
  • ایلومینیم اور دھاتی شیٹس (پیکنگ کے لیے)

جنگ نے سمندری ٹرانسپورٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ اب یورپ اور امریکہ تک سامان پہنچنے میں دو ماہ لگ رہے ہیں، جو پہلے کے مقابلے میں دگنا وقت ہے۔ کئی کھیپیں جہازوں میں پھنس کر رہ گئی ہیں، جس سے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں قلت بڑھ رہی ہے۔

اس لاجسٹک بحران کے باعث عالمی ذخائر کم ہو گئے ہیں اور حکومتوں اور تنظیموں کو نجی مارکیٹ سے خریداری کرنا پڑ رہی ہے، جس سے مقابلہ مزید بڑھ گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں سپلائی متاثر ہو رہی ہے، وہیں طلب میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ معاشی غیر یقینی صورتحال میں لوگ خاندان بڑھانے کے فیصلے مؤخر کر دیتے ہیں، جس سے مانع حمل ذرائع کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کے پاس آئندہ چند ماہ کے لیے کافی سپلائی موجود ہے، لیکن وہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کمپنی کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2020 میں کورونا وبا کے دوران بھی Karex کو اپنی پیداوار میں 200 ملین یونٹس کی کمی کرنا پڑی تھی، جس سے دنیا بھر میں قلت پیدا ہو گئی تھی۔ اس وقت بھی کنڈوم کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، جس پر ماہرین نے غیر ارادی حمل اور جنسی بیماریوں، خصوصاً ایچ آئی وی، میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے