اسپین میں تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن: دفاتر پر دباؤ، لمبی قطاریں اور انتظامی چیلنجز

Screenshot

Screenshot

اسپین میں تارکینِ وطن کی حالیہ ریگولرائزیشن پالیسی نے بلدیاتی اداروں اور سماجی تنظیموں پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف شہروں میں لمبی قطاریں، بدنظمی اور عوامی بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ خاص طور پر بارسلونا میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب سینکڑوں افراد صبح سویرے ہی ضروری دستاویزات کے حصول کے لیے دفاتر کے باہر جمع ہو گئے۔

تارّاگونا اسٹریٹ پر واقع سروس آفس، جو اس وقت شہر کا واحد مرکز ہے جہاں مطلوبہ سرٹیفکیٹ جاری کیا جا رہا ہے، کے باہر ایک ہزار سے زائد افراد نے رات گئے اور علی الصبح قطاریں لگائیں۔ کئی افراد نے گھنٹوں انتظار کے بعد بھی اپنا کام مکمل نہ ہونے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ بعض مقامات پر ہجوم اس حد تک بڑھ گیا کہ مقامی پولیس کو مداخلت کرنا پڑی اور قطاروں کو منظم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے۔

Screenshot

بلدیہ بارسلونا کے شعبہ سماجی حقوق کے حکام کے مطابق تمام درخواست گزاروں کو نمبر جاری کیے جا رہے ہیں اور شہریوں سے تحمل اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست جمع کرانے کے لیے 30 جون تک کا وقت موجود ہے، اس لیے فوری دباؤ کی ضرورت نہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ زیادہ تر افراد جلد از جلد اپنے کاغذات مکمل کروانا چاہتے ہیں۔

دیگر شہروں میں بھی ملتی جلتی صورتحال سامنے آئی ہے۔ منریسا میں شہریوں کو پہلے اپائنٹمنٹ لینا پڑ رہی ہے، جبکہ لیئیدا میں ایک مرکزی مقام پر تمام کارروائی کی جا رہی ہے جہاں سینکڑوں افراد روزانہ جمع ہو رہے ہیں۔ کئی افراد نے شکایت کی ہے کہ انہیں بار بار مختلف دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں لیکن واضح رہنمائی فراہم نہیں کی جا رہی۔

مقامی میئرز اور بلدیاتی نمائندوں نے اس عمل میں پیشگی منصوبہ بندی کی کمی پر تنقید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سسٹم پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ ادھر ہسپانوی حکومت نے بعض انتظامی مسائل کا اعتراف کیا ہے، لیکن اسے عارضی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب، کاتالان زبان کے کردار پر بھی بحث جاری ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ زبان کو لازمی شرط نہیں بنایا گیا، تاہم مستقبل میں دستاویزات کی تجدید کے دوران اسے ایک مثبت عنصر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کاتالونیا کے صدر سلوادور اییا کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت ہی اس عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے