اوزیمپک چھوڑنے کے بعد وزن دوبارہ بڑھنے سے بچاؤ: نیا طریقہ 70 فیصد مریضوں میں مؤثر قرار

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: ایک نئی تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے والی مشہور ادویات چھوڑنے کے بعد وزن کے دوبارہ بڑھنے (ری باؤنڈ ایفیکٹ) سے بچنے کے لیے ایک نیا طریقہ کار سامنے آیا ہے، جو تقریباً 70 فیصد مریضوں میں وزن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق امریکہ کے ڈارٹماؤتھ کی گیزل اسکول آف میڈیسن کی جانب سے کی گئی ہے اور اسے شکاگو میں ہونے والی ڈائجیسٹو ڈیزیز ویک (DDW) 2026 میں پیش کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق موٹاپے کے شکار ہر پانچ میں سے ایک بالغ نے GLP-1 قسم کی ادویات استعمال کی ہیں، لیکن ان ادویات کو چھوڑنے کے بعد زیادہ تر افراد تقریباً 18 ماہ میں دوبارہ وزن بڑھا لیتے ہیں۔

اس تحقیق میں پہلی بار ایک ایسے طریقہ کار کے شواہد پیش کیے گئے ہیں جسے “ڈیوڈینل میوکوسا ریجویوینیشن” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک کم مداخلتی (minimal invasive) اینڈوسکوپک عمل ہے، جس میں آنت کے ابتدائی حصے (ڈیوڈینم) کی اندرونی سطح کو حرارت کے ذریعے جزوی طور پر ختم کر کے نئی صحت مند بافت کی نشوونما کو تحریک دی جاتی ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر شیلبی سلیوان کے مطابق اگرچہ GLP-1 ادویات مؤثر ہیں، لیکن بہت سے افراد مہنگی ہونے، سائیڈ ایفیکٹس یا طویل عرصہ دوا لینے سے گریز کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے میں وزن کا دوبارہ بڑھنا ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے لیے یہ نیا طریقہ امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے ابتدائی نتائج کے مطابق 45 افراد پر کیے گئے تجربے میں جن مریضوں نے یہ طریقہ کار کروایا، انہوں نے دوا چھوڑنے کے بعد اپنا زیادہ تر وزن برقرار رکھا، جبکہ کنٹرول گروپ کے افراد نے نمایاں طور پر زیادہ وزن دوبارہ حاصل کیا۔

مریضوں نے اوسطاً 18 کلو وزن کم کیا تھا۔ چھ ماہ بعد جن افراد نے یہ نیا علاج کروایا، انہوں نے صرف تقریباً 3 کلو وزن دوبارہ حاصل کیا اور اپنی 80 فیصد سے زائد وزن میں کمی برقرار رکھی، جبکہ دوسرے گروپ میں وزن میں اضافہ تقریباً دوگنا رہا۔

ماہرین کے مطابق یہ طریقہ آنت میں ہارمونز کے توازن کو بحال کرتا ہے، جو انسولین مزاحمت اور میٹابولک بیماریوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ جسم کے میٹابولزم کو نئی حالت کے مطابق مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ طریقہ کار ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے، تاہم اس کے بڑے پیمانے پر نتائج 2026 کے آخر تک متوقع ہیں، جس کے بعد اس کی باقاعدہ منظوری کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے