ماں کے نام سارہ کاربونیرو کا درد بھرا خط: “یہ دکھ برداشت سے باہر ہے، مجھے کوئی راستہ سمجھ نہیں آ رہا”
ہسپانوی صحافی سارا کاربو نیرو نے اپنی والدہ گوئی اریوالو کے انتقال کے بعد ایک نہایت جذباتی اور دل کو چھو لینے والا خط لکھ کر اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں وہ لکھتی ہیں:
“میں یہاں ہوں، کانپتے ہوئے اپنی زندگی کی سب سے مشکل سطور لکھ رہی ہوں۔ اور یہ میں تمہارے لیے کر رہی ہوں، کیونکہ تم ہمیشہ کہتی تھیں کہ میں زیادہ لکھوں، تمہیں میرا لکھنا بہت پسند تھا۔ درحقیقت میں سب کچھ تمہارے لیے ہی کرتی تھی، ماں۔ تاکہ تم مجھ پر فخر کرو، مسکراؤ اور خوش رہو۔”
وہ اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں “میں تمہیں کتنا یاد کرتی ہوں، یہ درد ناقابلِ برداشت ہے۔ مجھے کوئی سمت یا مقصد سمجھ نہیں آ رہا، ماں۔”
سارہ مزید لکھتی ہیں کہ انہیں یقین نہیں آتا کہ اب ہر صبح ماں کا فون نہیں آئے گا، نہ وہ انہیں گلے لگا سکیں گی اور نہ ہی ان کی خوشبو محسوس کر سکیں گی۔ “میں اب تم میں پناہ نہیں لے سکوں گی اور نہ ہی تمہارے وہ مشورے سن سکوں گی جو ہمیشہ مجھے سنبھال لیتے تھے۔”
وہ کہتی ہیں “مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، جبکہ میرے لیے تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا رک گئی ہو، جیسے میرے جسم کا ایک حصہ جدا کر دیا گیا ہو۔”
تاہم وہ اپنی ماں کی خواہش کو یاد کرتے ہوئے حوصلہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں “میں جانتی ہوں کہ تم ہمیں خوش دیکھنا چاہتی تھیں، اسی لیے میں ہر روز اٹھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ یہ غم اور غصہ مجھے مفلوج کر دے۔ ہم سب یہاں ایک دوسرے کے ساتھ پہلے سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں، آئرین اور بچے… ہم ایک دوسرے کا خیال رکھ رہے ہیں، جیسے تم چاہتی تھیں۔”
آخر میں وہ اپنی ماں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتی ہیں “ماں، جہاں کہیں بھی تم ہو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم نے ایک بہت بڑا خلا چھوڑ دیا ہے کیونکہ تم ایک غیر معمولی خاتون تھیں۔ تمہیں لوگ کتنا چاہتے تھے، یہ مجھے ان دنوں سب نے بتایا۔ چرچ میں لوگوں کا ہجوم اس بات کا ثبوت تھا۔ مجھے تمہاری بیٹی ہونے پر بے حد فخر ہے۔”