Screenshot
سیوتا میں ہزاروں افراد کے اچانک داخلے کے پیچھے ایک منظم سوشل میڈیا مہم کا کردار سامنے آیا ہے۔ واٹس ایپ کے گروپس جیسے “حملہ” یا “سیوتا پر یلغار” کے ذریعے نوجوانوں کو اکٹھا کیا گیا اور انہیں سمندر کے راستے سرحد عبور کرنے کی ترغیب دی گئی۔
ان گروپس کو الجزائر، تیونس اور مراکش سے تعلق رکھنے والے افراد چلا رہے تھے جو لوگوں کو ہدایات دیتے، سوالات کے جواب دیتے اور پوری کارروائی کو منظم کرتے تھے۔ ایک فرانسیسی اکاؤنٹ کا بھی پتہ چلا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ سیوٹا کی سرحد کھلی ہوئی ہے، جس سے ہزاروں افراد کو روانہ ہونے کی ترغیب ملی۔
مزید یہ کہ فیس بک کے پانچ بڑے گروپس، جن کے ارکان کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ تھی، راستوں کے نقشے، ہدایات اور حتیٰ کہ نیوپرین سوٹ اور تیراکی کے آلات کی فروخت کے اشتہارات بھی شیئر کر رہے تھے۔
انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر بھی اس مہم نے بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کی، جہاں اسے 5 لاکھ تک ردعمل ملے۔ ان پلیٹ فارمز پر لوگوں نے اپنی کامیابی کی ویڈیوز اور پیغامات شیئر کیے، جس نے مزید افراد کو اس خطرناک سفر پر آمادہ کیا۔
تحقیقات کے مطابق یہ سرگرمی 15 جولائی سے شروع ہوئی، اور اس کی ایک بڑی وجہ سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بنا، جسے غلط انداز میں پیش کیا گیا کہ سرحد قانونی طور پر کھلی ہے۔ اس غلط فہمی نے لوگوں کو اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو بلانے پر اکسایا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد نے بیک وقت سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔
