Screenshot
میڈرڈ/ ہسپانوی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ 30 جولائی کو سیوتا پہنچنے والے مہاجرین کی “اکثریت” کو پہلے ہی مراکش واپس بھیجا جا چکا ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں صرف سمندر کے راستے داخل ہونے والوں کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
وزارت کے مطابق یہ فیصلہ نہ تو امیگریشن قانون میں کوئی تبدیلی کرتا ہے، نہ ہی سرحد پر فوری واپسی (ریچازو این فرونتیرا) کو غیر قانونی قرار دیتا ہے، نہ ہی یہ داخلے کا کوئی نیا راستہ کھولتا ہے اور نہ ہی واپسی کو روکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سیوتا یا میلیا کے ذریعے غیر قانونی طور پر اسپین میں داخل ہونا کسی کو یہاں رہنے، ملک کے اندر سفر کرنے یا یورپ میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق نہیں دیتا، بلکہ یہ جان کے لیے شدید خطرہ بھی ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ کسی بھی عدالتی فیصلے نے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا۔
وزارت نے یہ بھی بتایا کہ تراخال (Tarajal) کے ساحلی حصے پر قائم 500 میٹر کی “سمندری رکاوٹ” قانون اور عدالتی فیصلے کے مطابق ہے اور اس کے ذریعے واپسی کا عمل جاری رکھا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، سیوتا اور میلیا میں “واحد کنٹرول نظام” نافذ ہے، جس میں دوہری جانچ شامل ہے: ایک مراکش کی سرحد پر اور دوسری شینگن کنٹرول، جو جزیرہ نما اسپین جانے کے لیے سمندر یا ہوائی راستے پر کیا جاتا ہے۔ وزارت کے مطابق کوئی بھی شخص پولیس کے سامنے شناخت ظاہر کیے بغیر سفر نہیں کر سکتا۔
آخر میں وزارت نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے اس سال منظور کی گئی ریگولرائزیشن پالیسی کا اس بحران سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ صرف ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جو یکم جنوری 2026 سے پہلے اسپین میں مقیم تھے۔ گزشتہ ہفتے آنے والے افراد اس میں شامل نہیں ہیں، اور ان کے لیے “واحد راستہ قانونی طریقہ” ہی ہے۔
