Screenshot
بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ سیوتا میں حالیہ دنوں میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث سینکڑوں بچے اور کم عمر افراد “غیر محفوظ حالات” میں رہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق اس وقت شہر کا حفاظتی نظام تقریباً ایک ہزار بچوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے، جو اس کی اصل گنجائش سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ وہاں سو سے بھی کم بچوں کے لیے جگہ موجود ہے۔
سیو دی چلڈرن کو خدشہ ہے کہ بہت سے بچے ابھی تک رجسٹر نہیں ہو سکے اور نہ ہی انہیں کسی محفوظ جگہ منتقل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ سڑکوں یا ایسے مقامات پر رہ رہے ہیں جہاں ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
تنظیم کی ماہر جینیفر زوپیرو لی کے مطابق اس وقت سب سے بڑی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ کوئی بھی بچہ بغیر تحفظ کے نہ رہے۔ تمام کم عمر افراد کی فوری شناخت کر کے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے جہاں انہیں خصوصی نگہداشت اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکے۔
سیو دی چلڈرن نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی شناخت کے عمل کو تیز کیا جائے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کی جائے اور عارضی رہائش کے مزید مراکز قائم کیے جائیں۔ ساتھ ہی غیر ہمراہ بچوں کو اسپین کے دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کے عمل کو بھی تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ سیوتا کے نظام پر دباؤ کم ہو سکے۔
تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں سے متعلق ہر فیصلہ ان کے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے، اور اگر واپسی (ریپیٹری ایشن) کا عمل ہو تو ہر کیس کا انفرادی جائزہ لیا جائے۔
مزید برآں، تنظیم نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ شہر میں سینکڑوں افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جن میں صاف پانی، خوراک، طبی سہولیات اور محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔
