لبنانیوں کو بھی اسی طرح ریاست بنانے اور امن سے رہنے کا حق حاصل ہے جیسے اسرائیل کو ہے،وزیر خارجہ الباریس
Screenshot
برسلز: اسپین کے وزیر خارجہ، یورپی یونین اور تعاون خوسے مانوئل الباریس نے لبنان کے جنوبی علاقوں پر حالیہ اسرائیلی حملوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “جمہوریتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتیں” اور یہ کہ فلسطینیوں اور لبنانیوں کو بھی اسی طرح ریاست بنانے اور امن سے رہنے کا حق حاصل ہے جیسے اسرائیل کو ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا کہ دوسرے ممالک کو بھی اپنے آزاد اور پرامن ریاستی وجود کا اتنا ہی حق ہے جتنا اسے حاصل ہے۔
یہ بیان انہوں نے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے غیر رسمی اجلاس میں شرکت سے قبل دیا، جو آج قبرص میں ہو رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے لبنان کے شہر صور (Tiro) کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور وہاں حملوں میں شدت آئی ہے۔
الباریس نے جنوبی لبنان کو “جنگی علاقہ” قرار دے کر شہریوں کو نقل مکانی کا حکم دینے کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” اور بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر اسرائیل یورپ کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتا ہے تو اسے اس طرز عمل کو بدلنا ہوگا۔ ان کے مطابق جمہوری ممالک نہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق کی۔
وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدے کی معطلی پر ووٹنگ کرائی جائے کیونکہ ان کے بقول اب اس کے حق میں اکثریت موجود ہے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی کو یورپی یونین میں داخلے سے روکا جائے، جن پر حالیہ دنوں میں تنقید ہوئی تھی۔
الباریس نے مزید کہا کہ صورتحال ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور اسرائیل کا ایک خودمختار ملک کے خلاف جنگ جاری رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی کہا کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور مستقل جنگ بندی کی طرف آنا چاہیے۔
ساتھ ہی انہوں نے ایران سے خلیجی ممالک پر میزائل حملے بند کرنے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ اور آزاد رکھنے کا مطالبہ کیا۔