نوجوان، تعلیم یافتہ اور زبان جاننے والی خاتون: مہاجرین کے لیے پسندیدہ پروفائل، تحقیق

Screenshot

Screenshot

ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر کوئی مہاجر اپنے میزبان ملک میں قبولیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے سب سے موزوں تصور کیا جانے والا پروفائل ایک نوجوان، تعلیم یافتہ خاتون کا ہے جو پہلے ہی اچھی ملازمت رکھتی ہو اور مقامی زبان جانتی ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ وہ میزبان معاشرے کے غالب مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔

یہ نتائج سائنسی جریدے Science Advances میں شائع ہونے والی ایک بڑی تحقیق سے سامنے آئے ہیں، جس میں 36 ممالک کے ہزاروں افراد نے مہاجرین کے مختلف پروفائلز میں سے انتخاب کیا۔ اس تحقیق کے مطابق سب سے کم پسند کیے جانے والے افراد وہ ہیں جو مسلم ممالک سے آتے ہوں، معاشی وجوہات کی بنا پر ہجرت کرتے ہوں، غیر قانونی طور پر داخل ہوئے ہوں یا کسی معذوری کا شکار ہوں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف، ہارورڈ یونیورسٹی کے محقق مارکو اویینا کے مطابق، شرکاء کو یہ تصور کرنے کو کہا گیا کہ وہ امیگریشن افسر ہیں اور انہیں مختلف خصوصیات رکھنے والے مہاجرین میں سے انتخاب کرنا ہے۔ اس میٹا اینالیسس میں 142,817 افراد پر مشتمل تقریباً 100 مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ عمومی طور پر خواتین کو مردوں پر اور نوجوانوں کو بزرگوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ معذوری بھی منفی عنصر کے طور پر سامنے آئی، اگرچہ اس پر محدود مطالعات موجود تھے۔

معاشی پہلوؤں میں ایک دلچسپ تضاد سامنے آیا۔ لوگ ایسے مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ تعلیم یافتہ ہوں اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں، حالانکہ حقیقت میں کئی ممالک کو کم ہنر مند مزدوروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح، اگرچہ پناہ گزینوں کو معاشی مہاجرین پر ترجیح دی جاتی ہے، لیکن جن افراد کو کسی قسم کا صدمہ لاحق ہو، انہیں کم قبول کیا جاتا ہے۔

مقامی زبان پر عبور رکھنے والوں کو واضح برتری حاصل ہوتی ہے، جو تقریباً 10 پوائنٹس تک زیادہ قبولیت دلاتی ہے۔ مذہبی حوالے سے، زیادہ تر لوگ یا تو غیر مذہبی افراد کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر ایسے مہاجرین کو جو میزبان معاشرے کے مذہب سے مطابقت رکھتے ہوں۔

تحقیق کے مطابق مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کو سب سے زیادہ منفی درجہ بندی کا سامنا ہے، اور یہ رجحان یورپ، شمالی امریکا، آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت مختلف خطوں میں یکساں پایا گیا۔

سیاسی رجحانات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بائیں بازو یا لبرل سوچ رکھنے والے افراد عموماً مہاجرین کے حق میں زیادہ نرم رویہ رکھتے ہیں، جبکہ دائیں بازو کے افراد ثقافتی اور مذہبی عوامل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

وقت کے ساتھ رجحانات میں تبدیلی بھی دیکھی گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں لوگ زیادہ تر نوجوان، تعلیم یافتہ اور زبان جاننے والے مہاجرین کو ترجیح دے رہے ہیں۔ خاص طور پر 2020 کے بعد معاشی عوامل کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، اور کم آمدنی والے طبقات اب مہاجرین کے معاشی اثرات کو زیادہ اہم سمجھنے لگے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشی دباؤ اور فلاحی نظام پر بوجھ کے خدشات نے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض محنت کش طبقات میں مہاجرین کے خلاف رویہ سخت ہوا ہے اور وہ بعض اوقات شدت پسند سیاسی بیانیے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے