اسپین میں تارکینِ وطن کی خصوصی ریگولرائزیشن کی آخری تاریخ قریب، مدت بڑھانے کا مطالبہ
Screenshot
میڈرڈ: اسپین میں تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے شروع کیا گیا خصوصی ریگولرائزیشن پروگرام آئندہ منگل، 30 جون کو ختم ہو رہا ہے۔ اس دوران مختلف سماجی تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ درخواست جمع کروانے کی مدت میں توسیع کی جائے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 16 اپریل سے شروع ہونے والے اس عمل میں اب تک 9 لاکھ سے زائد درخواستیں جمع کروائی جا چکی ہیں، جبکہ حکومت کا اندازہ ہے کہ تقریباً 5 لاکھ افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ابھی حتمی نہیں ہیں کیونکہ ان میں دہرائی گئی درخواستیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ عمل معمول کے مطابق جاری ہے اور درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد ملک بھر میں عارضی اجازت نامے جاری کیے جا رہے ہیں۔
کئی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ بہت سے افراد وقت کی کمی کی وجہ سے اپنی درخواست مکمل نہیں کر سکیں گے۔ اسی لیے “Regularización Ya” تحریک نے پارلیمنٹ میں مدت بڑھانے کی تجویز پیش کی، جس کی حمایت کئی سیاسی جماعتوں نے کی ہے۔
تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 30 جون کی تاریخ حتمی نہیں ہونی چاہیے اور اگر سیاسی ارادہ ہو تو اس میں توسیع ممکن ہے۔
سیاسی رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب سرکاری ادارے خود مقررہ وقت میں درخواستیں پراسیس نہیں کر پا رہے تو درخواست دہندگان کو مزید وقت کیوں نہیں دیا جا رہا۔
دوسری جانب، وزیر برائے امیگریشن نے اس عمل کو “ملک کی کامیابی” قرار دیا اور کہا کہ اس سے نہ صرف تارکینِ وطن کو حقوق ملیں گے بلکہ لیبر مارکیٹ بھی مضبوط ہوگی۔
ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 لاکھ درخواستیں جمع ہو چکی ہیں،ان میں سے تقریباً 3 لاکھ (30%) پر ابتدائی کارروائی ہو چکی ہے،کئی کیسز میں تاخیر ہو رہی ہے
ماہرین کے مطابق آخری دنوں میں درخواستوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کی جانب سے جنہیں دستاویزات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیوروکریٹک تاخیر کی وجہ سے لوگ مقررہ وقت میں درخواست مکمل نہ کر سکے تو انہیں اس عمل سے باہر رکھا جا سکتا ہے، اس لیے مدت میں لچک یا توسیع ضروری ہے۔