Screenshot
سیوتا میں حالیہ بڑے پیمانے پر تارکین وطن کی آمد کے بعد کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم سیو دی چلڈرن کے اندازے کے مطابق جولائی کے آخر میں مراکش سے تقریباً 72 ہزار افراد کی غیر قانونی آمد کے بعد اب بھی لگ بھگ 5,500 بچے اور نوعمر سیوتا میں موجود ہیں۔
تنظیم کے مطابق تقریباً 1,500 بچے سرکاری حفاظتی نظام میں ہیں، جبکہ قریب 4,000 بچے سرکاری ڈھانچے سے باہر ہیں اور ان کی شناخت، تلاش اور محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ سیوتا کے صدر خوان خیسوس بیواس نے سرزمین پر موجود کم عمر افراد کی تعداد تقریباً 1,300 بتائی ہے، جس سے مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں واضح فرق سامنے آتا ہے۔
مراکش کی تنظیم APISF کے مطابق ان بچوں کی ہجرت کی وجوہات صرف غربت نہیں۔ بہتر مستقبل، یورپ میں مواقع، مہم جوئی اور سوشل میڈیا پر یورپ کی بہتر زندگی کی تصویر بھی انہیں خطرناک سفر پر آمادہ کرتی ہے۔
سیوتا کی امدادی تنظیم لونا بلانکا کے مطابق متعدد نوجوان زخمی حالت میں پہنچے۔ کئی بچوں کے موبائل فون راستے میں گم ہوگئے اور وہ اپنے والدین یا رشتہ داروں سے رابطے کے لیے امدادی کارکنوں کے فون استعمال کرتے رہے۔ بعض والدین کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے بچے سیوتا پہنچ چکے ہیں، جبکہ کچھ خاندان اپنے بچوں کے لاپتہ ہونے یا ممکنہ طور پر ہلاک ہونے کے بارے میں بھی بے خبر ہیں۔
دوسری جانب اسپین اور مراکش نے نئی اجتماعی آمد روکنے کے لیے سرحدی نگرانی سخت کردی ہے۔ کم عمر تارکین وطن کی واپسی پر اسپین میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تنازع بھی جاری ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہر فیصلے میں بچے کے بہترین مفاد، تحفظ اور بنیادی حقوق کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
