Screenshot
میڈیکل لیگل اینڈ فارنزک سائنسز انسٹی ٹیوٹ سیوتا کے ڈائریکٹر مانوئل اپارسیرو نے بتایا ہے کہ 30 اور 31 جولائی کو سیوتا میں ہونے والی بڑے پیمانے کی تارکین وطن کی آمد کے بعد برآمد کیے گئے 82 لاشوں میں سے اب تک صرف 6 افراد کی شناخت ہو سکی ہے۔ ان میں سے 3 افراد کی شناخت ڈی این اے اور 3 کی انگلیوں کے نشانات کے ذریعے کی گئی۔
انہوں نے یورپی پریس کے مطابق ہسپانوی ریڈیو RNE کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بحران کی شدت کے باعث انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم پہلے ہی دن سے شدید دباؤ میں آ گئی تھی۔ ان کے مطابق سیوتا میں پیش آنے والی صورتحال ایک ’’المیہ‘‘ تھی، جس سے نمٹنے کے لیے طبی اور فرانزک عملے نے بڑی تعداد میں گھنٹوں کام کیا اور مختلف اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ اور تعاون ضروری رہا۔
اپارسیرو نے بتایا کہ اس وقت صرف دو فرانزک ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھے، جبکہ ادارے میں لاشیں محفوظ رکھنے کے لیے سات کولڈ اسٹوریج موجود ہیں۔ لاشوں کی بڑی تعداد کے باعث مزید گنجائش کے لیے سابق فوجی اسپتال میں ایک بڑا اضافی کولڈ اسٹوریج قائم کیا گیا۔
فرانزک انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ تمام متوفین کی عزت اور مذہبی عقائد کا مکمل احترام کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی پوسٹ مارٹم کے بعد، جہاں اموات حادثاتی اور پرتشدد نوعیت کی تھیں، مسلمان متوفین کی اسلامی رسومات ادا کی گئیں تاکہ ان کی مذہبی عقیدے کے مطابق تدفین اور عزتِ نفس کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کم عمر تارکین وطن کی عمروں کے تعین کے حوالے سے بھی بتایا کہ حالیہ دنوں میں تقریباً 80 سے 90 عمر کے تعین کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے دانتوں اور ہاتھ کی ہڈیوں کے ایکسرے سمیت ہڈیوں کی نشوونما اور دانتوں کی معدنی تشکیل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
سیوتا میں رپورٹ ہونے والے جنسی حملوں کے بارے میں اپارسیرو نے کہا کہ ان واقعات میں معمولی اضافہ ہوا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ اضافہ ’’نمایاں‘‘ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرانزک ٹیم اس وقت بھی مسلسل کام کر رہی ہے اور تقریباً ’’خودکار انداز‘‘ میں کام جاری ہے۔ ان کے مطابق جب بحران ختم ہوگا تو عملے کو نہ صرف پورے آپریشن کا جائزہ لینا ہوگا بلکہ کچھ وقت آرام اور ذہنی طور پر خود کو سنبھالنے کے لیے بھی درکار ہوگا، کیونکہ ذاتی طور پر یہ صورتحال انتہائی مشکل اور تکلیف دہ رہی ہے۔
