Screenshot
فلسطینی نژاد معروف اداکارہ ہیام عباس نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کی تاریخ 7 اکتوبر 2023 سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی پس منظر موجود ہے، جس میں برطانیہ کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کو اسرائیلی ریاست کے ہاتھوں قتلِ عام سے پہلے برطانوی حکمرانی کے دور میں بھی ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔
65 سالہ ہیام عباس عالمی سطح پر آزاد اور معروف سنیما کی ایک اہم اداکارہ ہیں۔ وہ فلم ’بلیڈ رنر 2049‘، ’دی لیمون ٹری‘، ’میونخ‘ اور ’دی لمٹس آف کنٹرول‘ سمیت متعدد فلموں میں اداکاری کر چکی ہیں۔ انہیں مقبول ٹی وی سیریز ’Succession‘ میں ماریشیا رائے کے کردار سے بھی خاص شہرت ملی۔
ہیام عباس کی نئی فلم ’Palestine 36‘ کی ہدایت کاری فلسطینی فلم ساز اناماری جابر نے کی ہے۔ فلم 1936 کے فلسطین کی کہانی بیان کرتی ہے، جب فلسطین برطانوی نوآبادیاتی اقتدار میں تھا۔
فلم میں دو خاندانوں کی زندگیوں کو دکھایا گیا ہے۔ ایک خاندان دیہی علاقے میں رہتا ہے اور اپنی زمینوں سے محرومی کا سامنا کرتا ہے، جبکہ دوسرا شہری خاندان ایک آزاد فلسطینی ریاست کے خواب دیکھتا ہے۔ فلم میں اس دور کے سیاسی حالات، زمینوں کی بے دخلی، یہودی آبادکاروں کی آمد اور برطانوی اقتدار کے اثرات کو مختلف کرداروں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔
ہیام عباس کا کہنا ہے کہ ان کی فلسطینی شناخت ان کی عالمی سنیما کی شناخت سے الگ نہیں۔ وہ جہاں بھی ہوں، فلسطین ہمیشہ انہیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اداکارہ کے مطابق فنکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھتا ہے، اس کے لیے آواز اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی نعروں کے بجائے فلموں کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ سنیما لوگوں کی آنکھیں کھول سکتا، شعور بیدار کر سکتا اور دنیا کو بدلنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
