Screenshot
میڈرڈ/ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ نے اسرائیلی سفیر ہلیل نیومن کو طلب کرکے غزہ میں ورلڈ سینٹرل کچن (WCK) کے امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کی تحقیقات میں فوجی اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اپریل 2024 میں دیر البلح کے علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں WCK کے سات امدادی کارکن ہلاک ہوئے تھے، جن میں آسٹریلوی شہری زومی فرینکوم بھی شامل تھیں۔
پینی وانگ نے ملاقات کے بعد کہا کہ اسرائیل کا فیصلہ آسٹریلیا کی جانب سے متوقع احتساب اور ذمہ داری کے معیار سے بہت دور ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے دو افسران کو برطرف اور تین کو سرزنش کرنے کے اقدام کو بھی سات افراد کی ہلاکت کے لیے ناکافی قرار دیا۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ نے سوال اٹھایا کہ اگر پہلا حملہ ایک ’’تباہ کن غلطی‘‘ تھا تو اس کے بعد مزید حملے کیوں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کو اب تک اس بات کی تسلی بخش وضاحت نہیں ملی کہ انسانی امدادی قافلے پر اس وقت حملہ کیوں کیا گیا جب اعلیٰ فوجی قیادت نے بریگیڈ کمانڈر کو قافلے پر حملہ نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔
وانگ نے کہا کہ آسٹریلیا زومی فرینکوم، ان کے خاندان اور ساتھیوں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے اسرائیل پر دباؤ جاری رکھے گا۔ تاہم انہوں نے اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور آسٹریلیا کے مفادات کے دفاع کے مواقع محدود ہوجائیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ آسٹریلیا اور اسرائیل کے تعلقات اس وقت ’’مشکل مرحلے‘‘ میں ہیں۔
اسرائیلی سفیر ہلیل نیومن نے فرینکوم کے خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا، تاہم باضابطہ معذرت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ممکنہ قانونی نتائج ہوسکتے ہیں۔
نیومن نے اسرائیلی تحقیقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دو سال تک جاری رہنے والی تحقیقات کے نتائج کو صرف اس لیے مسترد نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ کسی کے سیاسی مؤقف کے مطابق نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ہر ہلاکت لازماً فوجداری ذمہ داری کا باعث نہیں بنتی۔
اسرائیلی فوج کی تحقیقات میں تسلیم کیا گیا کہ متعدد سنگین غلطیوں کے باعث فوجیوں نے غلط طور پر یہ سمجھا کہ حماس کا ایک جنگجو امدادی قافلے میں موجود ہے۔ تاہم اسرائیل کا مؤقف ہے کہ WCK نے قافلے میں مسلح سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی سے فوج کو آگاہ نہیں کیا تھا اور قافلہ طے شدہ راستے سے ہٹ گیا تھا۔
اسرائیلی تحقیقات کے مطابق کمانڈروں کے فیصلوں سے فوجداری جرم کا معقول شبہ پیدا نہیں ہوتا، اسی لیے فوجی اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
