نیپال اور تبت میں موسلا دھار بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ 165 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں لاپتا ہیں، امدادی ٹیمیں کیچڑ اور ملبے میں زندگی کی تلاش کے لیے دن رات سرگرم ہیں۔ تباہی اس قدر شدید ہے کہ کئی دیہات اور تجارتی علاقے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔
نیپالی حکام کے مطابق 162 لاشیں نکالی جاچکی ہیں، جبکہ چین نے تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 165 ہوگئی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سیلاب ایک برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں آیا، جس کی شدت اتنی تھی کہ اس سے 5اعشاریہ2 شدت کا زلزلہ اور مٹی کے تودے گرنے جیسے واقعات رونما ہوسکتے تھے۔
چینی سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی نے جمعرات کو بتایا کہ تبت کے علاقے گیرونگ میں مٹی کے تودے گرنے کے تباہ کن واقعے کے بعد لاپتا افراد کی تعداد بڑھ کر 558 ہوگئی ہے۔
ٹی وی کے مطابق لاپتا افراد میں 260 غیر ملکی بھی شامل ہیں، جبکہ تبت میں ہلاکتوں کی تعداد بدستور تین ہے۔
نیپالی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ سیلاب کے بعد 468 سیاحوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ نیپال کے وزیر اعظم بالندرا شاہ نے اس تباہی سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا:آپ کو جس تکلیف اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ معمولی نہیں، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ریاست اپنی تمام صلاحیتوں اور وسائل کے ساتھ آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
نیپال میں سکیورٹی فورسز سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں مقیم خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں کیچڑ اور ملبے کے درمیان زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہی ہیں۔
سیلابی ریلوں کے باعث کئی منزلہ عمارتوں کی نچلی منزلیں کیچڑ بھرے پانی میں ڈوب گئیں۔نیپالی فوج نے فضائی امدادی کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں، جبکہ دریائے کنارے واقع علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھر خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیپال میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے نمائندے ڈیوڈ فشر نے کہا کہ دیہات اور تجارتی علاقے نقشے سے مٹ گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن متاثرہ علاقوں میں ہنگامی امدادی سامان بھیجے گی۔نیپال، تبت اور جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقوں میں موسمِ گرما کے مون سون سیزن، یعنی جون سے ستمبر تک، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات عام ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خطے میں شدید موسمی واقعات کی تعداد اور شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔
