اگر نظام کی ناکامی کی وجہ سے 14 خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے تو سیاسی ذمہ داری ان لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کے پاس اصل اختیار ہے۔ اسی طرح ہسپتال کی انتظامیہ اور وہ تمام افسران جن کی براہِ راست ذمہ داری بنتی ہے، ان کا بھی تعین ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ان 14 گھروں میں خود جائیں، سوگوار خاندانوں کا سامنا کریں اور ان سے فرداً فرداً معافی مانگیں۔ پریس کانفرنسیں، نمائشی تصاویر اور پریس ریلیز اصل احتساب کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔
جب عام لوگ نظام کی خامیوں اور بدانتظامی کا خمیازہ بھگت رہے تھے، اُس وقت اقتدار میں بیٹھے لوگ جہاز خریدنے، بڑے بڑے منصوبوں کے اعلانات اور یادگاریں بنانے میں مصروف تھے۔ اب ایک سیکرٹری صحت کو معطل کرکے اسے ’’کارروائی‘‘ کا نام دینا وہی پرانا طریقہ دکھائی دیتا ہے: ایک قربانی کا بکرا تلاش کرو، پریس ریلیز جاری کرو اور معاملے پر مٹی ڈال دو۔
اگر غوری صاحب اور معطل سیکرٹری صحت کو ایسے معاملات کی سزا دی جا رہی ہے جن کے وہ اکیلے ذمہ دار نہیں، تو میں ان کے حق میں آواز اٹھاتا ہوں۔
پاکستان کو ایک اور ’’مٹی پاؤ‘‘ کارروائی نہیں بلکہ حقیقی احتساب کی ضرورت ہے۔ آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، ہسپتال انتظامیہ سے لے کر سیاسی قیادت تک جس جس کی جتنی ذمہ داری بنتی ہے، اس کا تعین کیا جائے اور اسی حساب سے جوابدہی کی جائے۔
14 قیمتی جانیں صرف ایک افسر کی قربانی نہیں، بلکہ جواب، احتساب اور انصاف مانگتی ہیں۔
