Screenshot
بارسلونا(دوست نیوز) ادب اور ثقافت کے حوالے سے ایک بڑا نام ڈاکٹر صغریٰ صدف جو طویل عرصے سے شاعری‘ تحقیق اور کالم نگاری کے علاوہ پی ٹی وی پر پنجابی کے پروگراموں کی کمپیئرنگ کررہی ہیں،بارسلونا کے نجی دورہ پر ہیں
بارسلونا میں معروف پاکستانی بزنس مین چوہدری محمد سلیم لنگڑیال اور چوہدری محمد کلیم الدین وڑائچ کی جانب سے قرطبہ ریسٹورنٹ پورٹ فورم پر عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔
عشائیہ تقریب میں قریبی دوست احباب نے شرکت کی ،ڈاکٹر صغریٰ صدف نے صوفی ازم اور انسانی معاشرہ کی تعمیر وترقی پر گفتگو کی اور اپنی اردو پنجابی شاعری سے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کہا کہ بابا فرید کی تعلیمات اور ان کا پیغام ہماری میراث کا حصہ ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کا کلام ہماری روح کے بہت قریب ہے، کیونکہ پنجاب ہمیشہ سے روشن خیال اور روحانی سرزمین رہا ہے۔ یہاں کا معاشرہ فن، ثقافت، انسانیت، رواداری اور محبت سے جڑا رہا ہے۔
پنجاب میں ہمیشہ فرقہ واریت بہت کم رہی ہے۔ وارث شاہ کی ہیر کو ہی دیکھ لیں۔ اس میں رانجھا جب جوگی کے پاس جاتا ہے تو وہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے احترام نظر آتا ہے۔ یعنی جو بھی اپنے مذہب کا نیک اور اچھا انسان تھا، لوگ اس کی عزت کرتے تھے اور اس کی بات سنتے تھے۔
لیکن بعد میں جب سیاسی طور پر ایک خاص سوچ کا غلبہ ہوا تو معاشرے میں کچھ ایسی چیزیں داخل ہوئیں جو پہلے ہماری ثقافت کا حصہ نہیں تھیں۔ رفتہ رفتہ فرقہ واریت اور مذہبی اختلافات بڑھنے لگے۔ مختلف فرقوں کے بارے میں جو غلط فہمیاں اور تعصبات پیدا کیے گئے، لوگ انہیں سننے اور ماننے لگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک بات عرض کروں۔ ابھی محبت کے اشعار کی بات کرتے ہیں۔ عام لوگوں کے سامنے خاص باتیں کرنا مناسب نہیں، لیکن جب خاص لوگ بیٹھے ہوں تو ایسی باتیں کی جا سکتی ہیں۔ ہر شخص کے سامنے ہر بات نہیں کی جا سکتی، کچھ باتیں خاص ہوتی ہیں، اور چونکہ آپ یہاں خاص لوگ بیٹھے ہیں، اس لیے میں یہ بات کر رہی ہوں۔
اسی طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری پوری زندگی صرف ظاہری عبادت تک محدود ہے۔ ہم جو چاہیں کرتے رہیں، تسبیح پھیرتے رہیں، مصلّیٰ بچھاتے رہیں۔ لیکن صرف تسبیح اور مصلّے سے اصل بات نہیں بنتی۔
اللہ نے ہمیں صرف تسبیح اور مصلّے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ ہم ان چیزوں کو نیکی سمجھتے ہیں، لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی شخص صرف عبادت کر لیتا ہے یا درود پڑھ لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انسانیت کی تمام ذمہ داریاں پوری کر چکا ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف عبادت کے لیے پیدا کرنا ہوتا تو فرشتے پہلے ہی موجود تھے، جو ہر وقت عبادت کرتے ہیں۔ ہمیں فرشتے نہیں بنایا گیا بلکہ انسان بنایا گیا ہے۔
انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرے، اپنی عقل، علم، محبت اور کردار کو بروئے کار لائے اور دنیا کو زیادہ خوبصورت بنائے۔ یہی انسان ہونے کا اصل مقصد ہے۔
صوفیوں نے بھی ہمیشہ اپنے آپ کو عاجزی میں رکھا۔ کوئی حقیقی صوفی یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نیک ہوں یا میں دوسروں سے بہتر ہوں۔ یہی صوفیانہ فکر کی خوبصورتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کے بجائے عاجزی اختیار کرے اور اپنے عمل سے انسانیت کی خدمت کرے۔
بابا فرید کا ایک بہت خوبصورت شعر ہے:
یعنی اے فرید! خاک کو برا نہ سمجھو، کیونکہ خاک سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ زندہ انسان اسی خاک کو اپنے قدموں تلے روندتے ہیں، لیکن مرنے کے بعد یہی خاک انسان کے اوپر آ جاتی ہے۔ آخرکار ہم سب نے اسی مٹی میں جا کر مل جانا ہے۔
صوفیانہ فکر میں خاک کو حقیر نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ انسان کا پورا وجود اسی مٹی سے وابستہ ہے۔ ہماری شخصیت، مزاج اور زندگی پر بھی اس مٹی اور ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ پہاڑی علاقے میں رہنے والے شخص کا مزاج مختلف ہو سکتا ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا مزاج اور طرزِ زندگی مختلف ہوتا ہے۔ یعنی جس مٹی میں ہم پروان چڑھتے ہیں، اس کا ہماری شخصیت اور مزاج سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے زمین پر بے شمار پودے، درخت، پھل اور جڑی بوٹیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سے بہت سی چیزیں انسانی صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ جب ہم قدرت کے اس نظام سے بغاوت کرتے ہیں اور ایسے پودے اور درخت لگاتے یا ماحول کو تبدیل کرتے ہیں جو ہماری زمین اور آب و ہوا کے مطابق نہیں ہوتے تو کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ قدرت نے پہلے ہی ہر علاقے کے لیے ایک خاص نظام قائم کر رکھا ہے۔
جب ہم مٹی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ مٹی کا ہم پر بہت بڑا قرض ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں جا کر آباد ہو جائیں، چاہے امریکہ میں رہیں یا کسی اور جگہ، اپنی مٹی اور اپنے وطن کی مٹی سے تعلق انسان کے دل میں ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
یہ مٹی صرف ہماری شناخت نہیں بلکہ ہم پر ایک ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زمین، اپنے ماحول اور اپنے معاشرے کے لیے کچھ واپس کریں اور اس مٹی کا حق ادا کریں جس نے ہمیں پروان چڑھایا ہے۔
ہر سیاسی ذہن کو یہ بات ضرور سمجھنی چاہیے کہ ہمیں اپنے لوگوں اور اپنے ملک کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی ہونی چاہیے۔ ہمارے علاوہ بھی بہت سے لوگ ہیں، اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بھی آگے بڑھیں اور حالات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ڈاکٹر صغریٰ صدف کے ریسٹورنٹ پہنچنے پر محمد سلیم لنگڑیال اور چوہدری کلیم الدین وڑائچ نے پھولوں کا گلدستہ پیش کرکے پرتپاک استقبال کیا
مختصر عشائیہ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہو جس کی سعادت چوہدری شہزاد اکبر وڑائچ اور مظہر حسین راجہ نے حاصل کی جبکہ نظامت کے فرائض چوہدری ایاز مٹھانہ چک نے سرانجام دئیے
عشائیہ تقریب میں چوہدری امتیاز لوراں،چوہدری عبدالغفار مرہانہ،چوہدری ساجد گوندل ،راجہ نعیم،غضنفر منظور،پرویز اختر جانی،راجہ بشارت حسین،کاشف محمود ،محترمہ عروسہ اور دیگر دوست احباب نے شرکت کی ۔
