Screenshot
میڈرڈ: اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے سیوتا میں پیدا ہونے والے شدید مہاجر بحران پر غور کے لیے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس منگل کی صبح 8:30 بجے ہوگا، جو چھٹیوں کے بعد ہونے والے پہلے وزارتی اجلاس سے چند گھنٹے قبل منعقد کیا جائے گا۔ سیوتا کے صدر خوان خیسوس ویواس بھی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔
30 اور 31 جولائی کو تقریباً 80 ہزار مہاجرین کے سیوتا میں غیر قانونی داخلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اب بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکی۔ حکام کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد اب بھی عارضی کیمپوں اور شہر کی سڑکوں پر موجود ہیں، جن میں تقریباً 2,900 نابالغ شامل ہیں۔
قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ہسپانوی پارلیمنٹ میں مہاجر بحران پر متعدد وزرا سے وضاحتیں طلب کی گئی ہیں۔ وزیر دفاع مارگریتا روبلس، وزیر انصاف فیلکس بولانیوس، وزیر صحت مونیکا گارسیا، وزیر داخلہ فرنینڈو گراندے مارلاسکا، وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس اور وزیر شمولیت ایلما سائز سمیت دیگر وزرا پارلیمنٹ میں پیش ہوں گے۔
بحران کے حوالے سے مراکش کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ابتدائی خفیہ رپورٹس کے مطابق مراکشی حکام نے سیوتا کی طرف جانے والے مہاجرین کو روکنے کے بجائے انہیں گزرنے دیا۔ تاہم وزیر داخلہ مارلاسکا نے اسپین اور مراکش کے درمیان تعاون کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ رباط کے تعاون سے بیشتر افراد کو واپس بھیجنے میں مدد ملی۔
دوسری جانب پولیس یونین Jupol نے حکومت کی تاخیر پر شدید تنقید کی ہے۔ یونین کے مطابق 26 روز بعد قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا بحران کی سنگینی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یونین نے سیوتا میں تعینات پولیس اہلکاروں کو طویل ڈیوٹیوں اور واضح آپریشنل ہدایات نہ ملنے کی بھی شکایت کی ہے۔
