Screenshot
خیرونا: اسپین کی صوبائی عدالت خیرونا نے واضح کیا ہے کہ آئین میں دیا گیا مناسب اور باعزت رہائش کا حق کسی شخص کو دوسرے کی نجی ملکیت پر بغیر اجازت یا قانونی حق کے قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ رہائش کے آئینی حق کو غیر قانونی قبضے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
6 جولائی 2026 کو جاری ہونے والے فیصلے میں عدالت نے آئین کے آرٹیکل 47 کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ شق شہریوں کے لیے مناسب رہائش کے حق کو تسلیم کرتی ہے اور ریاست کو اس مقصد کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے کی ذمہ داری دیتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شہری کسی دوسرے شخص کی ملکیت کو اپنی رہائش کے لیے استعمال کرنے کا حق حاصل کر لے۔
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 33 کی بھی نشاندہی کی، جس کے تحت نجی ملکیت کے حق کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ عدالت کے مطابق رہائش کے مسائل اور کسی فرد یا خاندان کی مالی یا سماجی مشکلات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کا حل نجی مالکان کی جائیداد پر قبضہ نہیں ہو سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کوئی شخص رہائش کے بحران یا کمزوری کا شکار ہے تو اس کی مدد کرنا حکومت اور عوامی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ریاست کو سرکاری رہائش، مالی امداد، سماجی خدمات اور دیگر اقدامات کے ذریعے ایسے افراد کی مدد کرنی چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی جائیداد واپس حاصل کرنے کے لیے مالکان کو قانونی راستے دستیاب ہیں۔ حالات کے مطابق سول اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ 2025 میں بعض غیر قانونی قبضوں کے خلاف عدالتی کارروائی تیز کرنے کے لیے قانون میں بھی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کاتالونیا میں غیر قانونی قبضے کا مسئلہ سیاسی اور سماجی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ رہائش کا حق اور نجی ملکیت دونوں آئینی حقوق ہیں، لیکن رہائش کا حق کسی دوسرے کی جائیداد پر غیر قانونی قبضے کا قانونی جواز نہیں بن سکتا۔
