Screenshot
میڈرڈ، امریکا کے آئیکان اسکول آف میڈیسن، ماؤنٹ سینائی کے محققین نے میٹاسٹیٹک بریسٹ کینسر کی ایک مخصوص قسم کے علاج میں کیموتھراپی کے بغیر چار ٹارگٹڈ ادویات کے امتزاج کے حوصلہ افزا نتائج حاصل کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ مستقبل میں بعض مریضوں کے لیے کیموتھراپی کے متبادل کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق Journal of the National Cancer Institute میں شائع ہوئی ہے اور ’ASPIRE‘ نامی ابتدائی مرحلے کے کلینیکل ٹرائل پر مبنی ہے۔ تحقیق میں ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا جن کے میٹاسٹیٹک بریسٹ کینسر میں ہارمون ریسیپٹرز (HR) اور HER2 دونوں مثبت تھے۔
علاج میں چار ادویات anastrozole، palbociclib، trastuzumab اور pertuzumab شامل تھیں۔ یہ ادویات ہارمونل علاج کے ساتھ ان مخصوص راستوں کو نشانہ بناتی ہیں جو کینسر کے خلیوں کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق میں 29 مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق 97 فیصد مریضوں کو علاج کے پہلے چھ ماہ کے دوران طبی فائدہ حاصل ہوا۔ بیماری کے دوبارہ بڑھنے سے پہلے مریضوں کے زندہ رہنے کا درمیانی عرصہ تقریباً 25 ماہ رہا۔ تقریباً 39 ماہ کی فالو اَپ مدت کے بعد تقریباً 93 فیصد مریض زندہ تھے۔
کچھ مریضوں میں علاج کا اثر طویل عرصے تک برقرار رہا، جبکہ ایک مریضہ نے یہ علاج چھ سال سے زیادہ عرصے تک جاری رکھا۔
علاج کے دوران سامنے آنے والے عام مضر اثرات میں خون کے سفید خلیوں، خصوصاً نیوٹروفِلز کی کمی، خون کے سفید خلیوں میں مجموعی کمی، اسہال اور خون کی کمی شامل تھی۔ صرف ایک مریضہ نے مضر اثرات کی وجہ سے علاج چھوڑا جبکہ علاج کے باعث کسی مریض کی موت نہیں ہوئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ کیموتھراپی سے بچنے کا امکان خاص طور پر ان مریضوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے جو عمر رسیدہ ہوں یا دیگر بیماریوں کی وجہ سے کیموتھراپی برداشت کرنے کے لیے موزوں امیدوار نہ ہوں۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تحقیق میں مریضوں کی تعداد کم تھی اور نئی تھراپی کا موجودہ معیاری علاج سے براہ راست موازنہ نہیں کیا گیا۔ اس لیے بڑے اور باقاعدہ کلینیکل ٹرائلز کے نتائج آنے تک اسے حتمی متبادل علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
