برطانیہ جسے اسرائیل کے کٹر حامیوں میں شامل کیا جاتا ہے، اس کے ہاں سے پہلی بار اسرائیل کے بارے میں ایسے مطالبات کا اظہار کیا جا رہا ہے جو عالمی رائے عامہ کی تائید کے حامل ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یہ مطالبہ ‘انڈی پینڈنٹ ‘ اور ‘انڈی پینڈنت عریبیہ’ کی طرف سے یہ تحقیقات سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ غزہ کے ناصر میڈیکل کمپلیکس میں پانچ صحافیوں سمیت 20 افراد کی ہلاکت اسرائیلی جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔
پانچ صحافیوں سمیت بیس افراد کی ہلاکت کا یہ اندوہناک واقعہ 25 اگست 2025 کو پیش آیا تھا۔ اس کی سنگینی کا ایک پہلے پہلو یہ بھی تھا کہ یہ خان یونس کے علاقے میں قائم ہسپتال میں پیش آیا تھا۔ ہلاک کیے گئے صحافیوں میں ‘انڈ یپینڈنٹ عریبیہ’ کی نمائندہ مریم ابو داگا اور مغربی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کے کیمرہ مین حسام المصری بھی شامل تھے۔
‘انڈی پینڈنٹ ‘ کے مطابق اس کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے دوران 17 چشم دید گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ جبکہ اسرائیل سے تعلق رکھنے والے دو ‘وسل بلورز ‘ ماہرین اسلحہ اور بین الاقوامی قانون کے ماہرین کی رائے بھی لی گئی۔
تحقیقات میں یہ واضح ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ٹینک سے پہلے کیمرہ مین المصری کو نشانہ بنایا۔ کیمرہ مین اس وقت لائیو کوریج کے لیے ہسپتال کی بیرونی سیڑھیوں پر کھڑا اپنی ذمہ داری انجام دے رہا تھا۔
اس کے آٹھ منٹ بعد جب صحافی، طبی عملے کے ارکان کیمرہ مین کے ارد گرد جمع تھے اس جگہ کو ٹینک کی کئی گولوں سے پھر نشانہ بنایا گیا۔ نتیجتاً ہلاکتوں کی کل تعداد 20 ہو گئی۔ اسرائیلی فوج نے غیر متعلقہ افراد کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا مگر اس حقیقت سے انکار کیا کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر ان سب افراد پر ٹینک سے گولہ باری کی۔
اسرائیلی فوج نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے یہ بیان دیا کہ یہ کیمرہ حماس کا تھا۔ اس لیے کیمرہ مین کو نشانہ بنا دیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس واقعے میں کل چھ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ اس کے بر عکس ‘انڈی پینڈنٹ’ کا اپنی تحقیقات میں کہنا ہے کہ یہ کمیرہ مین ‘روئٹرز’ سے وابستہ تھا اور براہ راست کوریج کے لیے شوٹنگ کر رہا تھا۔
تحقیقات میں یہ حقیقت سامنے لائی گئی ہے کہ اسرائیلی فوج نے جن چھ افراد کو حماس کے عسکریت پسند قرار دیا ہے وہ درحقیقت ہسپتال کے کارکن اور شہری دفاع کی ریسکیو ٹیم کا حصہ تھے۔ یہ کارکن کیمرہ مین پر کی گئی گولہ باری کی اطلاع پر موقعہ پر پہنچے تھے۔
بین الاقوامی قانون کے استاد پروفیسر کیوین جان ہیلر کوپن ہیگن یونیورسٹی میں ملٹری سٹڈیز کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ‘ انڈی پینڈنٹ ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ‘ ایک پراسیکیوشن کو معقول اور مناسب انداز سے ہی حتمی شکل تک پہنچنا چاہیے۔ جیسا کہ بین الاقوامی قانون میں سویلینز پر حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا جاتا ہے۔ اس خاص معاملے میں ٹینک کے ذریعے کیا گیا دوسرا حملہ بطور خاص سوال کھڑے کرتا ہے۔
اسرائیل فوج نے تحقیقات کو ایک آدمی کی تحقیقات کا نام دیا۔ فوج نے کہا وہ خود اپنے جنرل سٹاف کے ذریعے معاملے کو دیکھا جا رہا ہے۔ فوج کا ‘فیکٹ فائنڈنگ’ اور ‘اسیسمنٹ میکانزم’ اپنا موجود ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے ‘ انڈی پینڈنٹ’ کی ان تحقیقات کے سامنے آنے پر مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ ان ارکان پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کی سارہ چیمپیئن بھی شامل تھیں ۔ جنہوں نے کہا عالمی برادری کو جنیوا کنونش کو برقرار رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا صحافیوں کو ہدف بنانے کو جائز سمجھ لینے والوں کے خلاف جو غصہ ہونا چاہیے وہ کہاں ہے۔ اس کا اظہار کیوں نہیں کیا جاتا۔
لبرل ڈیمو کریٹ رکن پارلیمنٹ لیلیٰ موران ان تحقیات کے نتیجے میں بین الاقوامی قانونی چھانٹی کا کیس مضبوط ہو گیا ہے۔ انہوں نے حکومت برطانیہ پر زور دیا کہ بین الاقوامی عدالتوں کو جو بھی مطلوب شواہد ہیں پیش کر دے۔
لیبر پارٹی کے ایم پی راچیل ماسکیل نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تجارت روکے اور اسرائیل پر تجارتی پابندیاں لگائے۔ کیونکہ جو شہادتیں اور ثبوت سامنے آگئے ہیں وہ اسرائیلی کارروائی کو جنگی جرائم کا حصہ ظاہر کرتے ہیں۔
قانون دان ہلینا کینیڈی نے اس بارے میں کہا غزہ لبنان اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کے حوالے سے تحقیقات کی جانی چاہییں۔ برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ناصر ہسپتال پر اسرائیلی فوج کا ٹینک حملہ سخت خوفناک ہے۔ عام شہریوں، صحافیوں اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے کارکنوں کو لازماً تحفظ ملنا چاہیے۔
