امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شام آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے لہجے میں مزید سختی کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ جاری کیا، جس پر ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ درج تھا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے نقشے کی تصویر شیئر کی، جس پر انگریزی میں (New American Land) یعنی ’’نئی امریکی سرزمین‘‘ لکھا تھا۔یہ پوسٹ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر امریکی خودمختاری کے اعلان سے متعلق بار بار دیے جانے والے بیانات کے بعد سامنے آئی۔ ان کا تازہ بیان جمعہ کی شام سامنے آیا، جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’’آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین سمجھتے ہیں۔‘‘
واشنگٹن اور تہران کے درمیان لفظی جنگ میں اس وقت مزید شدت آگئی ہے، جب امریکہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کا پیکیج عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کے اثرات ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں، خصوصاً چین، تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ان پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جنہیں وہ اب تک کی سخت ترین پابندیاں قرار دے رہی ہے۔
دوسری جانب تہران نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے مسائل بڑھ رہے ہیں، ایرانی تیل کی برآمدات میں کمی آرہی ہے اور ملک کے اندر ایندھن کی مارکیٹ اور معیشت پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ آئندہ پیر کو ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی تفصیلات کا اعلان کریں گے، جنہیں انہوں نے ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ قرار دیا ہے۔
بیسنٹ کے مطابق واشنگٹن تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے ان ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جو ایران کو ’’کسی بھی قسم کا شریانِ حیات‘‘ فراہم کرتے ہیں کہ انہیں اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ اور ایران نے اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے کیے تھے، جن کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنا اور تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے۔
