Screenshot
اسپین میں مراکشی نژاد بچوں اور نوجوانوں کو غربت اور سماجی محرومی کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ ہسپانوی اقتصادی تحقیقاتی ادارے Fedea کی ایک نئی رپورٹ میں اسپین میں بچوں کی غربت کی وجوہات اور اس کے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مراکشی نژاد نابالغ بچے غربت کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار طبقوں میں شامل ہیں۔ محققین José Ignacio Conde-Ruiz اور Marialejandra Garay Aguirre کے مطابق تارکین وطن خاندانوں، خصوصاً مراکشی نژاد خاندانوں کے بچوں کو غربت کے حوالے سے نمایاں نقصان کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں والدین کی ملازمت، تعلیمی صورتحال اور آمدنی کا کم ہونا شامل ہیں۔
Fedea کی رپورٹ ’’Hijos, Ciclo Vital y Pobreza en España: 2008–2025‘‘ کے مطابق اسپین میں بچوں کی غربت ایک عارضی مسئلہ نہیں رہی بلکہ مسلسل اور ساختی مسئلہ بن چکی ہے۔ ملک کی معاشی ترقی کے باوجود بچوں کی غربت میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں اسپین کے تقریباً 28.3 فیصد بچے اور نوجوان ایسے گھرانوں میں رہتے تھے جن کی آمدنی غربت کی حد سے کم تھی۔ یہ تعداد تقریباً 20 لاکھ 70 ہزار بچوں اور نوجوانوں کے برابر ہے۔
اسپین میں بچوں اور نوجوانوں میں غربت اور سماجی محرومی کی مجموعی شرح تقریباً 29.2 فیصد ہے، جبکہ یورپی یونین کی اوسط شرح 19.3 فیصد ہے۔ یوں اسپین کی شرح یورپی اوسط سے تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے اور پولینڈ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلغاریہ اور رومانیہ کی شرحیں اسپین کے قریب ہیں، جبکہ یونان اور اٹلی میں یہ شرح 25 فیصد سے کم ہے۔ پرتگال میں یہ شرح 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ ڈنمارک، سلووینیا اور فن لینڈ میں بچوں کی غربت کی شرح تقریباً 10 فیصد ہے۔
Fedea کے مطابق اکیلے والدین والے خاندانوں اور بڑے خاندانوں میں غربت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ والدین کی غیر یقینی ملازمت بھی بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے کی ایک اہم وجہ ہے۔
2025 میں بچوں والے گھرانوں میں غربت کی شرح 23 فیصد رہی، جبکہ بچوں کے بغیر گھرانوں میں یہ شرح 17.6 فیصد تھی۔ یعنی بچوں والے خاندانوں کو 5.4 فیصد پوائنٹس زیادہ خطرے کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نوجوان خاندانوں میں بچوں کی پیدائش ایسے وقت میں ہوتی ہے جب والدین کی آمدنی اور ملازمت کا استحکام نسبتاً کم ہوتا ہے، جس سے غربت کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
