Screenshot
بارسلونا نے سیکنڈ ہینڈ اور استعمال شدہ کپڑوں کی فیشن مارکیٹ میں یورپ کے اہم مراکز میں اپنی جگہ مضبوط کرلی ہے۔ شہر میں اس وقت استعمال شدہ کپڑوں کی 91 خصوصی دکانیں موجود ہیں، جس کے باعث بارسلونا یورپ کے ان بڑے شہروں میں شامل ہوگیا ہے جہاں سیکنڈ ہینڈ فیشن کی نمایاں مارکیٹ موجود ہے۔
یہ اعداد و شمار ہومانا فاؤنڈیشن پیوبلو پارا پیوبلو کی جانب سے جاری کردہ اسپین میں سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی دکانوں سے متعلق 2025 کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں اسپین کے 20 ہزار سے زائد آبادی والے 250 شہروں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
یورپی سطح پر لندن سب سے آگے ہے جہاں 872 دکانیں موجود ہیں۔ اس کے بعد پیرس میں 226، روم میں 150، برلن میں 106، میڈرڈ میں 98 اور ویانا میں 95 دکانیں ہیں۔ بارسلونا 91 دکانوں کے ساتھ ان کے فوراً بعد آتا ہے۔ شہر کے راوال اور گراسیا کے علاقے سیکنڈ ہینڈ اور ونٹیج کپڑوں کے لیے خاص طور پر مشہور ہیں۔
اسپین میں مجموعی طور پر 861 سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی دکانیں موجود ہیں۔ میڈرڈ 98 دکانوں کے ساتھ پہلے، بارسلونا 91 کے ساتھ دوسرے اور ویلنسیا 45 کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
کاتالونیا پورے اسپین میں اس شعبے میں سب سے آگے ہے، جہاں 181 دکانیں ہیں۔ اس کے بعد اندلس 139 اور میڈرڈ ریجن 126 دکانوں کے ساتھ ہیں۔
کاتالونیا میں غیر منافع بخش اداروں کا کردار بھی نمایاں ہے۔ 2025 میں Moda re- کی 54، Humana کی 26، AERESS کی 20 اور Roba Amiga کی 5 دکانیں تھیں۔ یہ ادارے کپڑوں کو دوبارہ استعمال میں لا کر ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی منصوبوں کے لیے وسائل بھی فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی مقبولیت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ صارفین کا بدلتا ہوا رجحان ہے۔ لوگ کم قیمت پر معروف برانڈز خریدنے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست فیشن، فضلے میں کمی اور منفرد لباس کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔ خاص طور پر ملینیئلز اور جنریشن زیڈ میں سیکنڈ ہینڈ خریداری تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔
رپورٹ میں آن لائن پلیٹ فارمز جیسے Vinted، عارضی بازاروں اور بڑے برانڈز کی سیکنڈ ہینڈ مصنوعات کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس لیے 861 دکانیں صرف مستقل اور فزیکل سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ کی عکاسی کرتی ہیں۔
ہومانا کے مطابق وقت کے ساتھ سیکنڈ ہینڈ دکانوں کا انداز بھی تبدیل ہوا ہے۔ اب یہ دکانیں زیادہ کشادہ، منظم اور جدید بن رہی ہیں، جس سے استعمال شدہ کپڑوں کی خریداری ایک محدود طبقے کی ضرورت کے بجائے عام شہریوں کے لیے بھی ایک مقبول اور باقاعدہ خریداری کا انتخاب بنتی جارہی ہے۔
