Screenshot
فرانس اور سعودی عرب نے پیرس کے مضافاتی علاقے سیرژی پونتواز (Cergy-Pontoise) میں تفریح، ہوٹل، ثقافت اور کھیلوں پر مشتمل ایک بڑے منصوبے کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس پر مکمل تکمیل کے دوران تقریباً 6 ارب یورو کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
یہ اعلان فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کے درمیان پیرس کے صدارتی محل ایلیزے میں ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا۔
منصوبے کو سعودی عرب کے ویژن 2030 سے منسلک کمپنی قدیہ انویسٹمنٹ کمپنی (Qiddiya Investment Company) آگے بڑھائے گی۔ اس منصوبے میں تفریحی مراکز، ہوٹل، ثقافتی مقامات، کھیلوں کی سہولیات اور ممکنہ طور پر تین بڑے تفریحی پارکس شامل ہوں گے۔ ان میں سے ایک پارک جاپانی مانگا پر مبنی ہوگا، جس میں مشہور ’ڈریگن بال زیڈ‘ مرکزی حیثیت رکھے گا۔
صدر میکرون نے منصوبے کو ایک غیر معمولی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈزنی لینڈ پیرس کے 1992 میں افتتاح کے بعد یہ فرانس میں تفریحی شعبے کا سب سے بڑا منصوبہ ہو سکتا ہے۔ منصوبے سے تقریباً 22 ہزار براہ راست ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
یہ منصوبہ کوردمانش (Courdimanche) میں قائم کیا جائے گا، جہاں ماضی میں فرانس کا پہلا بڑا تفریحی پارک میراپولیس موجود تھا۔ یہ پارک 1987 میں کھولا گیا تھا اور 1991 میں بند ہوگیا تھا۔
میکرون اور محمد بن سلمان کی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے دفاع، صحت، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، تفریح اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت مختلف شعبوں میں 22 سے زائد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا اعلان کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان 2025 میں تجارتی حجم تقریباً 11.8 ارب ڈالر رہا۔
فرانس اور سعودی عرب نے باہمی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ایک خصوصی مالیاتی فریم ورک بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے تاریخی اور سیاحتی منصوبے العلا میں فرانس کی شراکت داری کو 2035 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر سامنے آئی ہے اور اسے فرانس سعودی اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
