Screenshot
زاراگوزا/ یونیورسٹی آف زاراگوزا اور یونیورسٹی آف سلامانکا کے محققین نے 12 اگست کو ہونے والے مکمل سورج گرہن کے دوران 30 سے زائد جانوروں کی نگرانی کی۔ ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف جانوروں نے گرہن کے دوران مختلف انداز میں ردِعمل ظاہر کیا۔ اس سے یہ تصور چیلنج ہوتا ہے کہ جانور صرف گرہن کو رات کے آغاز کے طور پر سمجھتے ہیں۔
تحقیق میں بھیڑوں، مرغیوں اور گھوڑوں سمیت پانچ دیگر گھوڑا نما جانوروں کا مشاہدہ کیا گیا۔ ماہرین نے زاراگوزا، برگوس اور تیرویل کے تین مختلف مقامات پر جانوروں کی جسمانی اور حرکتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
زاراگوزا میں 10 بھیڑوں کی چھ دن تک نگرانی کی گئی۔ گرہن کے دوران مکمل تاریکی سے چند منٹ پہلے اور بعد میں بھیڑوں کی سرگرمی میں واضح کمی دیکھی گئی۔ رات 8 بج کر 24 منٹ سے 8 بج کر 28 منٹ کے درمیان ان کی اوسط سرگرمی معمول کے دنوں کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد کم ہوگئی۔
تاہم دل کی دھڑکن کے حوالے سے تمام بھیڑوں کا ردِعمل ایک جیسا نہیں تھا۔ کچھ کی دھڑکن کم ہوئی جبکہ کچھ میں اضافہ دیکھا گیا۔
زاراگوزا میں 16 مرغیوں پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ گرہن نے دن بھر کی مجموعی سرگرمی کم نہیں کی، تاہم مرغیوں نے اپنی سرگرمی کے اوقات میں نمایاں تبدیلی کی۔
برگوس میں چھ مرغیوں میں سے پانچ نے شام کے وقت رات جیسی کم سرگرمی کی طرف منتقلی معمول سے تقریباً 40 سے 60 منٹ پہلے شروع کردی۔ گرہن کے بعد تمام چھ مرغیوں کی سرگرمی کچھ دیر کے لیے معمول سے کم رہی۔ ان کی دل کی دھڑکن میں بھی گرہن کے بعد کمی دیکھی گئی۔
تیرویل کے علاقے میں پانچ گھوڑا نما جانوروں، جن میں گھوڑی، خچر اور گدھی شامل تھی، کی نگرانی کی گئی۔ گرہن کے فوراً بعد ان جانوروں کے ردِعمل ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے۔ کچھ زیادہ متحرک ہوگئے جبکہ کچھ کی سرگرمی کم ہوگئی۔
بعد میں پانچوں جانوروں کی سرگرمی معمول کے مقابلے میں کم ریکارڈ کی گئی، جس میں اوسط کمی 18.6 فیصد تک پہنچ گئی۔
محققین کے مطابق مجموعی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سورج گرہن کے دوران جانوروں کا رویہ سادہ نہیں بلکہ پیچیدہ اور ہر جانور کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ ماہرین اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جانوروں کے ردِعمل کی اصل وجہ اچانک روشنی کا کم ہونا ہے یا شام کے قدرتی وقت کے قریب گرہن کا واقع ہونا۔
