Screenshot
اسپین کے سرکاری پنشن نظام کا مستقبل ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی، ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے والی بیبی بوم نسل اور پنشن کے بڑھتے اخراجات نے سرکاری مالیات پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اسپین میں صرف ریٹائرمنٹ پنشنز پر 62 ارب 940 ملین یورو خرچ ہوئے، جو کسی بھی سال کی پہلی ششماہی کے لیے ریکارڈ رقم ہے۔ جون 2025 سے جون 2026 کے درمیان تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار نئے ریٹائرڈ افراد پنشن حاصل کرنے والوں میں شامل ہوئے۔
ہر تین افراد کے ریٹائر ہونے پر صرف ایک نوجوان ملازمت میں شامل ہوگا
اس صورتحال کی بنیادی وجہ آبادی میں تبدیلی ہے۔ 1950 کی دہائی کے آخر سے 1970 کی دہائی کے وسط تک پیدا ہونے والی بڑی نسل اب بتدریج ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ رہی ہے۔
فاؤنڈیشن ادی کو کے مطابق، 2026 سے 2035 کے درمیان 53 لاکھ سے زیادہ کارکن ریٹائر ہوں گے، جبکہ موجودہ نوجوانوں کی سرگرمی کی شرح برقرار رہنے کی صورت میں صرف تقریباً 18 لاکھ نوجوان عملی طور پر لیبر مارکیٹ میں شامل ہوں گے۔ یعنی تقریباً ہر تین افراد کے ریٹائر ہونے پر صرف ایک نیا کارکن شامل ہوگا۔
تخمینوں کے مطابق تقریباً 50 سال بعد اسپین کی آبادی میں ہر تین میں سے ایک شخص پنشنر ہوگا، جبکہ تقریباً 40 فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔
فاؤنڈیشن ادی کو کا کہنا ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے میں امیگریشن اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم صرف امیگریشن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ سینئر کارکنوں کی صلاحیتوں سے بہتر فائدہ اٹھانے، کارکنوں کی دوبارہ تربیت اور آٹومیشن و مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔
صرف پنشن ہی نہیں، صحت اور نگہداشت کے اخراجات بھی بڑھیں گے
اسپین کی آزاد مالیاتی ذمہ داری اتھارٹی AIReF کے مطابق، بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی سے صرف پنشن کے اخراجات نہیں بڑھیں گے بلکہ صحت، معذور افراد کی مدد اور طویل مدتی نگہداشت کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
اندازہ ہے کہ طویل مدتی نگہداشت پر سرکاری اخراجات 2025 میں جی ڈی پی کے 0.8 فیصد سے بڑھ کر 2050 میں 1.6 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ پنشن کے اخراجات تقریباً 13 فیصد سے بڑھ کر 16.4 فیصد جی ڈی پی تک پہنچنے کا امکان ہے۔
AIReF نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پنشن نظام کی طویل مدتی مالی پائیداری یقینی نہیں۔ اگر نئی اصلاحات نہ کی گئیں تو حکومت کو مزید رقم مختص کرنا، دیگر شعبوں کے اخراجات کم کرنا یا مزید قرض لینا پڑ سکتا ہے۔
موجودہ اندازوں کے مطابق، کسی بڑی تبدیلی کے بغیر 2050 تک اسپین کا سرکاری قرض جی ڈی پی کے 123 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
یوں اسپین کے سامنے آنے والے برسوں میں سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ پنشن میں ہر سال کتنا اضافہ کیا جائے، بلکہ یہ ہوگا کہ زیادہ پنشنرز اور کم نوجوان کارکنوں والے نظام کو طویل مدت تک مالی طور پر کیسے چلایا جائے۔
