Screenshot
بارسلونا: اسپین اور ایف سی بارسلونا کے نوجوان اسٹار فٹبالر لامین یامال کی والدہ شیلا ایبانا نے اپنے بیٹے کی قومی اور خاندانی شناخت کے حوالے سے جاری بحث پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لامین یامال کی جڑیں استوائی گنی سے ہیں اور لوگوں کا یہ کہنا کہ وہ استوائی گنی سے تعلق نہیں رکھتے، انہیں دکھ پہنچاتا ہے۔
شیلا ایبانا کا تعلق استوائی گنی کے شہر باتا سے ہے۔ وہ کم عمری میں اسپین منتقل ہوئی تھیں۔ لامین یامال کے والد مونیر نصراؤئی کا تعلق مراکش سے ہے، جبکہ لامین خود کاتالونیا میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔
شیلا نے اپنے بیٹے کی کامیابی کے لیے طویل عرصے تک سخت محنت کی۔ وہ میک ڈونلڈز میں کام کرتی تھیں اور محدود مالی وسائل کے باوجود اپنے بیٹے کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ لامین یامال نے بھی کئی مواقع پر اپنی والدہ کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہیں اپنی زندگی کا اہم ترین سہارا قرار دیا ہے۔
لامین کے مطابق، ان کی والدہ مشکل حالات کے باوجود انہیں پریشانیوں سے دور رکھتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ وہ اپنے بچپن سے لطف اندوز ہوں۔ جب لامین کم عمری میں بارسلونا کی مشہور فٹبال اکیڈمی لا ماسیا منتقل ہوئے تو بھی ان کی والدہ ان کی زندگی میں مسلسل اہم کردار ادا کرتی رہیں۔
لامین یامال نے بین الاقوامی فٹبال میں اسپین کی نمائندگی کا فیصلہ کیا۔ انہیں مراکش کی جانب سے کھیلنے کا امکان بھی تھا، تاہم انہوں نے اسپین کا انتخاب کیا۔
اس کے باوجود لامین اپنی والدہ کے ذریعے استوائی گنی کی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ ایک انٹرویو میں بتا چکے ہیں کہ میچوں سے قبل ان کی والدہ چاول، چکن اور مونگ پھلی کی چٹنی تیار کرتی ہیں، جو استوائی گنی کی روایتی غذا ہے۔
شیلا کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کا انتخاب اپنی جگہ، لیکن خاندانی اور ثقافتی جڑیں انسان کی شناخت کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔
